خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 364 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 364

364 لئے آپ نے اتنا کچھ کہا اور اتنا کچھ تحریر فرمایا ہے کہ تنگ وقت میں سارے حوالے سنائے نہیں جا سکتے۔آپ بار بار فرماتے رہے کہ صحابہ کرام نے جب بھی ترقی کی تو صرف قرآن کے ذریعہ۔جب قرآن کو ہاتھ میں لے کر جہاد کیا تو ملک پر ملک فتح کرتے چلے گئے۔قوموں کی قومیں ان کی مطیع وفرمانبردار ہوتی چلی گئیں اور فوجوں کی فوجیں ان کی غلامی کو اختیار کرتی چلی گئیں۔مغربی اقوام جو آج مختلف علوم وفنون میں ترقی کر لینے پر بہت زیادہ نازاں ہیں 1400 سال قبل ان کی حالت سخت بد تر تھی۔تمام بڑے بڑے سائنسدان اور فلاسفر مسلمان ہی تھے۔ان لوگوں نے جب ترقی کی تو مسلمانوں ہی کی شاگردی اختیار کر کے اور ان قوانین کو اپنا کر جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں پس اب بھی اگر مسلمان ترقی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اسی کتاب کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔اور انہیں قوانین پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔جو قرآن کریم نے بیان فرمائے نہ کہ مغربیت کی تقلید۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” جو لوگ اسلام کی بہتری اور زندگی مغربی دنیا کو قبلہ بنا کر چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کے ماتحت چلتے ہیں۔قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 409 اسی لئے اپنی جماعت کو نصیحت فرماتے ہیں: اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا رہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 386 یہ حقیقت سوچنے کے باوجود مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئی کہ ہماری وہ لڑکیاں جو فلسفہ کی بڑی بڑی کتب رٹ لیتی ہیں دیگر مضامین پر عبور کر لیتی ہیں۔اگر کالج میں منعقد ہو نیوالے مباحثوں میں حصہ لینے کو کہا جائے تو لمبی لمبی تقاریر زبانی یاد کر لیتی ہیں۔لیکن اگر نہیں توجہ دیتیں تو صرف قرآن کی طرف۔حالانکہ یہی وہ مختصر کتاب ہے جس کا پڑھنا بھی آسان اور اس پر عمل کرنا بھی آسان ہے۔ضرورت ہے تو صرف توجہ کی۔ذوق کی اور شوق کی۔پس عزیز بچیو! میری تم کو یہی نصیحت ہے کہ قرآن سے محبت کرو۔بے حد محبت کرو۔کہ خدا تعالیٰ کی