خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 362
362 خطاب طالبات تعلیم القرآن کلاس یہ تقریر حضرت سیدہ ام متین صاحبہ مدظلہا تعالیٰ نے لجنہ مرکزیہ کی طرف سے تعلیم القرآن کلاس کی طالبات کو دی جانے والی الوداعی پارٹی کے موقع پر مورخہ 30 جولائی 1966ء کور بوہ میں کی تھی۔تشہد۔تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ماہ تک مرکز میں رہ کر قرآن کریم کا علم حاصل کرنے کی توفیق آپ کو عطا فرمائی ہے۔دوسرے مضامین بھی جو آپ نے یہاں پڑھتے ہیں۔دراصل قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔جو اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ فلاں مسئلہ کے متعلق قرآن کیا کہتا ہے۔قرآن پاک در اصل ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق کی صحیح تصویر ہے ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ آنحضرت کے اخلاق کیا ہیں تو آپ نے فرمایا كان خُلُقُهُ الْقُرْآن" (مسند احمد بن حنبل) یعنی قرآن مجید کو پڑھ لو یہی آپ کے اخلاق تھے۔پس قرآن پر غور کرنے سے آپ کے افعال کا ہمیں علم ہو سکتا ہے اور تب ہی ہم آپ کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔پھر ہم دن میں کئی بار سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہیں اور اپنے خدا سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہمیں وہ راستہ دکھا جس پر انعام یافتہ لوگ چلتے رہے۔یہ دعا مانگتے وقت ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس راستے کو پانے کے طریق کون سے ہیں۔کیونکہ اگر ہم کوشش نہیں کریں گے تو یہ دعا محض لفظی بن جائے گی۔لیکن اللہ تعالیٰ خود ہی وہ طریق بتا دیتا ہے۔سورۃ البقرہ کو شروع کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ کتاب ہر شبہ سے پاک ہے۔اس میں کوئی عیب نہیں اور کوئی کمی نہیں۔پس اس کے ہر حکم کے سامنے اپنی گردنیں جھکا کر اور ہر اس بات سے اجتناب کر کے جو قرآن کریم نے منع فرمائی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کو پاسکتے ہیں اور صراط مستقیم پر چل سکتے ہیں۔لہذا صراط مستقیم کو پانے کے لئے ضروری ہے کہ قرآن مجید کو فہم وتدبر کے ساتھ پڑھا۔اور غور وفکر کے ساتھ پڑھا جائے۔سوچ سمجھ کر اس کی تلاوت کی جائے۔یا ہمیں معلوم ہو کہ وہ کن امور پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتا ہے اور کن امور سے باز رہنے کا حکم صادر کرتا ہے۔پھر قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ یہ تا ابد پڑھی جائے گی اور بار بار پڑھی جائے گی اور جو تو میں اس پر عمل کریں گی انہیں کا نام آسمان پر عزت سے لیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کشتی نوح میں فرماتے ہیں: