خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 359 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 359

359 آہستہ غیر محسوس طور پر ان کی تربیت ایسی اعلیٰ رنگ میں ہونی شروع ہو جائے کہ پھر دنیا کا بڑے سے بڑا شیطانی حملہ بھی ان پر اثر انداز نہ ہو سکے۔اور وہ دنیا کے سامنے اپنے کردار اور اخلاق اور اپنی قربانی کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ پیش کریں کہ باقی لوگ ان کو دیکھ کر اپنے بچوں کو اس سکول میں بھجوانے پر مجبور ہو جائیں اور اگر کوئی ان کو رو کے کہ ان کے سکول میں بچوں کو نہ بھیجواؤ وہ تو کافر ہیں تو وہ کہیں ہمیں یہ کفر باقی لوگوں کے اسلام سے زیادہ پسند ہے۔جہاں پڑھ کر ہمارے بچے قرآن مجید پڑھتے ہیں۔قرآن مجید کا ترجمہ سیکھتے ہیں اور جہاں ان میں اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔مجھے رپورٹ میں یہ بات سن کر خوشی ہوئی ہے کہ لجنہ اماء اللہ کے مختلف جلسوں میں ہمارے سکول کے بچے اور بچیاں مختلف ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں۔میں خود اس بات کی طرف توجہ دلانے والی تھی کہ اگر آپ امید رکھتی ہیں کہ بڑے ہو کر یہ قومی فرائض کے ادا کرنے والے ہوں اور قوم کے لئے مفید کارکن ثابت ہوں تو چھوٹی عمر میں ہر موقع پر ان کے سپرد کام کئے جائیں جو ذمہ داری سے وہ ادا کریں۔اور ہر بچہ کی نگرانی کی جائے کہ اس نے اپنی ڈیوٹی کو کیسے سر انجام دیا۔جب بچپن سے ہی ان سے کام لیا جائے گا اور بچپن سے ہی ان میں جذبہ پیدا ہو گا کہ یہ کام ہم اپنی قوم کے لئے کر رہے ہیں۔اپنی لجنہ کے لئے کر رہے ہیں۔احمدبیت اور اسلام کی ترقی کے لئے کر رہے ہیں تو انشاء اللہ قربانی کرنا ان کی فطرت ثانیہ بن جائے گا۔اور بڑے ہونے پر جب بھی ان سے قربانی کا مطالبہ ہوا تو وہ سب سے پہلے لبیک کہنے والے ہوں گے۔خواہ وہ قربانی جان کی ہو وقت کی ہو یا مال کی۔کیونکہ بچپن سے ہی ان کے دلوں میں یہ راسخ کر دیا گیا تھا کہ ہمارا سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہم نے اسے قربان کرنا ہے۔میرے عزیز بچو اور بچیو! تمہیں چاہئے کہ تم اپنے اخلاق و کردار گفتار رفتار اور لباس کے لحاظ سے یگا نہ بنوجیسا کہ حضرت مصلح موعود نے جماعت کے بچوں اور نو جوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا۔میں واحد کا ہوں دلدادہ اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے تو میری آنکھ کا تارا ہے جس طرح اللہ تعالٰی واحد لاشریک ہے اور برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی صفات میں کوئی اور شریک ہو۔لیکن اپنی صفات کا مظہر بنا کر اس نے انسانوں کو دنیا میں بھیجا ہے جن میں سے کامل نمونہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک تھی۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہم بھی اس وقت بن سکتے ہیں۔جب ہر لحاظ سے ہم آنحضرت ﷺ کے نمونہ کے مطابق چلیں اور اپنے اخلاق اور اپنے نیک نمونہ میں