خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 357
357 خطاب طالبات نصرت گرلز سکول لاہور لجنہ اماءاللہ لاہور کے زیر انتظام یہ سکول جس کا نام نصرت گرلز سکول ہے جاری کیا گیا ہے۔اس سکول کی ابھی نہ اپنی عمارت ہے نہ فرنیچر۔لیکن میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتی ہوں کہ یہ آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہوئے اتنی ترقی کرے گا اور اتنا پروان چڑھے گا کہ لاہور کے بڑے بڑے مدارس اس کی تقلید کرنا باعث فخر سمجھیں گے۔انشا اللہ العزیز۔میری شخصی متنی اور عزیز بچو! تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا یہ سکول جس کا نام نصرت گرلز سکول ہے اس کا یہ نام رکھنے کی کیا وجہ ہے۔سکول کا یہ نام حضرت نصرت جہان بیگم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ تھیں کے نام پر رکھا گیا ہے۔آپ وہ مقدس خاتون تھیں جن کی الہی نوشتوں میں خبر دی گئی کہ آنے والا مسیح موعود ایک خاص مبارک خاتون سے شادی کرے گا۔جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خدیجہ اور اپنی نعمت کے نام سے پکارا۔آپ کے نام پر یہ نام اس لئے رکھا گیا تا کہ آپ کو ہر وقت سکول کا یہ نام اس بات کی یاد دلاتا رہے کہ تم نے یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد صرف سرٹیفیکیٹ اور ڈپلومے ہی حاصل نہیں کرنے۔صرف حساب جغرافیہ تاریخ اردو انگریزی، عربی یا سائنس کی تعلیم ہی حاصل نہیں کرنی بلکہ تم میں سے ہر ایک بچی نے نصرت جہاں بن کر نکلنا ہے۔تم میں سے ہر ایک اپنے اندر وہ اخلاق وہ اوصاف پیدا کرے۔جو حضرت نصرت جہاں بیگم میں تھے۔نصرت جہاں کے معنے دنیا کی مدد کرنے والی کے ہیں۔یہ نام تمہیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ تمہیں بلا تفریق مذہب وملت ہر ایک کی خدمت کرنی چاہئے۔اسلام کی تعلیم کا خلاصہ ہی یہ ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی صحیح رنگ میں عبادت کی جائے۔اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کی جائے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا سب سے بڑا طریق ہی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے بندوں کی تکلیفیں دور کی جائیں۔بنی نوع انسان کی ہر طرح خدمت کی جائے۔کسی کو تمہارے نہ ہاتھ سے تکلیف پہنچے نہ تمہاری زبان سے۔ہماری معلمات کا یہ بڑا ہی اہم فرض ہے جو ان پر عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان منھی منی بچیوں کی تربیت بچپن سے ہی اس طرح کریں کہ ان کے دلوں میں قوم کی خاطر قربانی کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ان کی دینی تعلیم کی طرف توجہ دی جائے۔ان کے اخلاق کی درستگی کی طرف توجہ دی جائے۔تا وہ جب اس سکول سے فارغ التحصیل ہو کر نکلیں تو اس سکول کا نام روشن کرنے والیاں ہوں۔