خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 354
354 شوق بھی ہے لیکن دلیل نہیں دے سکتیں۔گو ایک دولڑکیوں کی اس نے تعریف بھی بہت کی کہ وہ میرے ہر اعتراض کا جواب دیتی تھیں پس احمدیت کی اشاعت اگر آپ نے کرنی ہے اپنی ملنے جلنے والیوں اور سہیلیوں کو آپ نے بتانا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عین ضرورت زمانہ کے مطابق اور قرآنی پیش گوئیوں کے مطابق آئے ہیں ان کا مانا اس لئے ضروری ہے ہے کہ ان کا دعویٰ قرآن کے خلاف نہیں بلکہ عین مطابق ہے تو آپ کو خود قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنا ہو گا اس کے معارف سے آگاہ ہونا ہوگا اس کے مطالب پر عبور حاصل کرنا ہوگا تبھی آپ دوسروں تک حق وصداقت کا پیغام پہنچانے کے قابل ہوں گے۔پھر یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کا نمونہ عین شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوتا کہ آپ کا لباس آپ کی چال ڈھال طور طریقے دیکھ کر کوئی یہ کہنے کی جرات نہ کر سکے کہ دعوے کچھ اور عمل کچھ اور جب تک آپ کا عمل قرآن کے مطابق نہیں ہوتا آپ دنیا کو قرآن کی طرف کیسے دعوت دے سکتے ہیں۔دیکھئے کتنے سادہ الفاظ میں حضرت عائشہؓ نے آنحضرت ﷺ کے اخلاق کی تعریف کی ہے کہ کان خلقه القرآن آپ کے اخلاق حسنہ کے متعلق جاننا چاہتے ہو قرآن پڑھ لو جن باتوں کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکم فرمایا ہے آپ ان پر عامل تھے جن کے کرنے سے منع فرمایا ہے آپ ان سے بچتے تھے گویا آپ کی زندگی ایک عملی تفسیر تھی قرآن مجید کی میری بچیو! میرا دل دکھتا ہے جب میں آپ میں سے بعض کو ایسا لباس پہنے دیکھتی ہوں جو اسلامی روایات کے خلاف ہے۔جو قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے یا دوسروں کی نقل میں بغیر پردہ دیکھتی ہوں آپ میں سے بعض کا پردہ چھوڑنے یا صحیح رنگ میں پردہ نہ کرنے اور اپنے لباس وغیرہ میں اسلامی احکام کو مدنظر نہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ گویا آپ اپنے غلط عمل سے دنیا کو یہ بتارہی ہوتی ہیں کہ اسلام کے بعض احکام اب قابل عمل نہیں رہے (نعوذ باللہ ) جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا دائمی وعدہ فرمایا ہے جس طرح اس کا ایک ایک لفظ اپنی ظاہری صورت میں محفوظ ہے اسی طرح اس کے ایک ایک حکم کا ماننا ہمارے لئے ہمیشہ کے لئے ضروری قرآن کا کوئی ایک حکم بھی ایسا نہیں جس کے متعلق ہم کہ سکیں کہ اب اس پر عمل کرنا ضروری نہیں۔پردہ بھی اسلامی حکم میں سے عورتوں کے لئے ایک حکم ہے۔مغربی تہذیب کی تلقین میں بعض احمدی بچیاں بھی اس رو میں بہتی نظر آتی ہیں۔پردہ چھوڑنے کے علاوہ ان کا لباس ان کے اطوار ایک مسلمان عورت کے شایان شان نہیں بلکہ عیسائی عورتوں کے مشابہ نظر آتے ہیں قرآن زینت کے خلاف نہیں لیکن ایسے طریقے اختیار کرنا جن سے اسلامی روح مردہ ہو جائے اور دجالیت کی نقل یقیناً