خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 342 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 342

342 چاہتا ہو۔ایک اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں مصروف رہتا ہے اللہ تعالی اس کی حاجت روائی کرتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ مصائب قیامت میں سے اس کی مصیبت دور کرتا ہے۔اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپاتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا عیب چھپائے گا۔مسند احمد بن حنبل ) ایک اور حدیث ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔آپس میں بغض، حسد اور رنجش نہ رکھو بلکہ خدا کے بندے بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے کسی جھگڑے کے باعث تین دن سے زیادہ جدا رہے۔“ صحیح مسلم کتاب البر وصلة ) غصہ اور نفسانی جوش کے وقت اپنے پر قابو پانا ہی مسلمان کا کام ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ زبر دست وہ نہیں ہے جو اپنے مقابل کو شیخ دے بلکہ زبر دست وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کہ کہ مجھے آپ کچھ نصیحت فرمائیں۔آپ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو۔اس نے کئی بار یہی سوال کیا اور آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو۔اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑیے ہیں بہت ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے۔جب تک ظاہر وباطن ایک نہ ہو۔“ اسی طرح آپ فرماتے ہیں:۔روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح ص 11°12 ”ہمارا یہ اصول ہے کہ گل بنی نوع کی ہمدردی کرو۔اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس