خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 339 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 339

339 حق پورا ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ (هود: 91) یا درکھو کہ یہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ا یک قوت حاصل کرنے کے واسطے دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے۔قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمد اداور استعانت بھی کہتے ہیں۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کو اُٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے اسی طرح پر روحانی مگدر استغفار ہے۔اس کے ساتھ روح کو ایک قوت ملتی ہے۔اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔“ ملفوظات جلد اول ص 348 نیز آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اٹھو اور توبہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو۔اور یا درکھو کہ اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہند ویا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا لیکن جو شخص ظلم اور تعدی اور فسق فجور میں حد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزا دی جاتی ہے تب وہ خدا کی سزا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتا۔سو اپنے خدا کو جلد راضی کر لو اور قبل اس کے کہ وہ دن آوے جو خوفناک دن ہے۔تم خدا سے صلح کر لو۔وہ نہایت درجہ کریم ہے ایک دم کے گداز کرنے والی تو بہ سے ستر برس کے گناہ بخشش سکتا ہے۔“ روحانی خزائن جلد 20 لیکچر لا ہورص174 محبت المی: اس شرط بیعت کی پانچویں شق اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد کرتے رہنے پر مداومت کرنا ہے۔انسان کسی سے محبت اس کے حسن و احسان کی وجہ سے کرتا ہے۔اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لئے بڑا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا علم حاصل کیا جائے۔ان پر غور کیا جائے اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو ہر وقت اپنے ذہن میں رکھا جائے۔تا خود بخود دل سے بے اختیار احمداللہ رب العالمین نکلے۔اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کو یا درکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ روزانہ تلاوت قرآن کریم ہے۔رسما نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ پر غور کرتے ہوئے اگر انسان پڑھے تو بے اختیار