خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 338 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 338

338 نہیں سکتا۔درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔“ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی جلد اول ص 409 اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے درود شریف کی برکات کے متعلق تحریر فرمایا ہے:۔ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں صلی اللہ علیہ وسلم۔روحانی خزائن جلد 1 براہین احمدیہ ص 598 حاشیہ درود پڑھنے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہر وقت ہر کام کرتے ہوئے پڑھ سکتی ہیں۔کھانا پکاتے۔مکان کی صفائی کرتے ہوئے کپڑے سیتے ہوئے۔کپڑے دھوتے ہوئے۔فارغ بیٹھے ہوئے۔غرض ہاتھ کام میں مشغول ہو اور زبان پر یا خدا تعالیٰ کی حمد ہو یا درود شریف۔تو بہ کی تین شرائط :- چوتھی شق اس شرط بیعت کی اپنے گناہوں کی معافی مانگنے پر مداومت اختیار کرنا ہے۔احادیث میں بار بار یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو شخص صدق دل سے اپنے گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے مانگے اور یہ وعدہ کرے کہ آئندہ ایسا نہ کروں گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔تُوبُوا إِلَى اللهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (النور: 32) لیکن تو بہ کے لئے تین شرائط ضروری ہیں۔پہلی یہ کہ گناہ سے رُک جائے۔دوسری یہ کہ پچھلے گنا ہوں پر ندامت پیدا ہو۔اور تیسری یہ کہ پختہ عہد کرے کہ آئندہ کبھی وہ غلطی نہ کروں گا۔بعض گناہ اللہ تعالیٰ کے ہوتے ہیں اور بعض اللہ تعالیٰ کے بندوں کے۔یعنی انسان دوسرے کے حقوق پر ڈاکے ڈالے، چوری، غیبت کسی کا مال غضب کرنا ، دھوکہ دینا کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنا وغیرہ۔ان گناہوں کے لئے چوتھی شرط یہ ہے کہ جس کا حق مارا جائے اس سے معافی مانگے۔اس کے معاف کرنے کی صورت میں بھی تو بہ قبول ہوگی اور اگر وہ کہے گا کہ میں معاف نہیں کرتا بدلہ لوں گا تب بھی اس کا