خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 332 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 332

332 اپنی زنیتوں کا اظہار صرف انہی پر کرو جن پر کرنے کا قرآن میں حکم ہے یہ نہیں کہ بغیر پردہ غیر مردوں کے سامنے آؤ لباس اتنا تنگ پہنو کہ جسم کا عضو عضو نمایاں ہو برقعہ اتنا تنگ ہو کہ برقعہ کا مقصد ہی فوت ہو جائے اور خواہ مخواہ لوگوں کی نظریں تمہارے جسم کی طرف اٹھیں یا بُرقعہ کی زیبائش، فیتوں وغیرہ سے ایسی کی گئی ہو کہ خواہ مخواہ مردوں کی نظریں برقعہ کی طرف اُٹھ رہی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کشتی نوح میں تحریر فرماتے ہیں:۔”جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بد عملی سے یعنی شراب سے اور قمار بازی سے بدنظری سے اور خیانت سے رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے تو بہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح ص 18 19 ﴾ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر احمدی فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا۔فسق کے معنی عہد کے توڑنے کے ہوتے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فاسق کی تعریف بیان فرماتا ہے۔الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ۔(البقرہ:28) جوخدا سے کوئی عہد باندھے اور اسے توڑ دے وہ فاسق ہے۔خدا کے مامور سے عہد باندھ کر توڑنا بھی فسق ہے کیونکہ ید اللہ فوق اید یکم کے الفاظ نے بتا دیا ہے کہ جب خدا کے مامور کی لوگ بیعت کرتے ہیں تو گویا وہ خدا کی بیعت کرتے ہیں اور خدا سے عہد باندھتے ہیں اسی بات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رنگ میں بیان فرمایا ہے:۔”جو شخص اس عہد کو جو اُس نے بیعت کے وقت کیا تھا کسی پہلو سے توڑتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“ روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحہ 19 بیعت کا عہد ایک بہت بھاری ذمہ داری ہوتی ہے جو ایک شخص اپنی خوشی اور ارادہ سے خود قبول کرتا ہے اور اپنا ہاتھ اپنے امام کے ہاتھ میں دے کر اپنی جان کو اللہ تعالیٰ کی خاطر فروخت کر دیتا ہے بیعت کے بعد اس کا کچھ بھی اپنا نہیں رہتا۔غرض فسق سے بچنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے عہد بیعت کو نبھائے اور کبھی بھی اور کسی حالت میں بھی اپنے عہد سے پیچھے نہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فجور سے بھی منع