خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 330 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 330

330 پس ہماری بہنوں کو چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بدولت اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ خدا دکھایا ہے اور زندہ خدا کے زندہ نشانات انہوں نے دیکھے ہیں ان کا کوئی عمل ایسا نہیں ہونا چاہئے جو توحید کے خلاف ہو۔دوسری شرط :۔حقوق العباد کی ادائیگی دوسری شرط بیعت کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ پیش فرمائی تھی:۔کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوگا اگر چہ کیساہی جذبہ پیش آوے۔“ پہلی شرط بیعت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے تھا اور دوسری شرط کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔اسلامی تعلیم کے یہی دو بڑے ستون ہیں کہ اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کیا جائے تو دوسری طرف خدا تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے تب اسلام مکمل ہوتا ہے۔اس ایک شرط میں ہی دس باتوں کے کرنے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اور یہ تعلیم آپ نے عین قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطابق دی ہے۔قرآن مجید میں قدم قدم پر سچ بولنے کی ہدایت اور جھوٹ سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔سچ بولنا نیک کاموں کی ہدایت کرتا ہے اور نیک کام جنت میں لے جاتا ہے۔انسان بچ بولتے بولتے خدا کے ہاں سچوں میں لکھا جاتا ہے اور یقیناً جھوٹ بولنا بُرے کاموں کی ہدایت کرتا ہے اور بُرے کام دوزخ میں لے جاتے ہیں اور یقیناً انسان جھوٹ بولتے بولتے جھوٹوں میں لکھا جاتا ہے۔بخاری کتاب الادب ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔کہ اے لوگو! کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں پر مطلع نہ کروں۔آپ نے تین دفعہ صحابہ کو متوجہ کرنے کے لئے یہ الفاظ دہرائے صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ضرور ہمیں مطلع فرمائیں۔آپ نے