خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 322
322 خطاب جلسه سیرت النبی لجنہ اماءاللہ ایبٹ آباد نوٹ :۔حضرت سیدہ ام متین صاحبہ مورخہ 11 / اپریل بروز اتوار بوقت ایک بجے دن لجنہ اماء الله ایبٹ آباد تشریف لے گئیں اور اپنی مفید نصائح سے نوازا۔تعوذ اور بسم اللہ کے بعد آپ نے فرمایا: آج ہم اپنے پیارے رسول مقبول کی سیرت پر روشنی ڈالنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔پیشتر اس کے کہ میں آنحضور ﷺ پر نور کی زندگی کے متعلق کچھ بیان کروں۔ہمیں چاہئے کہ ہم سب مل کر آپ پر درود بھیجیں اور وقفے وقفے کے بعد درود شریف کا ورد کرتی رہیں۔رسول اکرم ﷺ کا وجود تمام قوموں کے لئے نجات کا باعث ہے۔آپ کی نمایاں خصوصیت پیر تھی کہ باقی انبیاء اپنی اپنی قوم کے لئے آئے۔مگر آپ تمام دنیا کے لئے رحمت بن کر آئے آپ کا دامن فیض آج تک قائم ہے۔اور قیامت تک قائم رہے گا۔چونکہ آپ ہر وصف میں یکتا تھے۔اس لئے کوئی آپ کے اوصاف حقیقی بیان نہیں کر سکتا۔آپ کے اخلاق کی تعریف قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے اے رسول تو کہہ دے کہ میری قربانی میرا مرنا میرا جینا صرف خدا کے لئے ہے۔اسی کی فرمانبرداری کرو۔اللہ تعالیٰ کی توحید قائم رکھنے میں قربانی اور ایثار کا جو درجہ آپ نے پیش کیا اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔جس طرح خداوند تعالیٰ اپنی صفات میں بے مثال ہے۔اسی طرح آپ بھی اپنے اخلاق میں بے مثال ہیں۔یہ نصب العین انسان کا بنایا ہوا نہیں بلکہ خدا کا بنایا ہوا ہے۔رسول اکرم کے تمام اخلاق دنیا کے لئے اسوہ حسنہ پیش کرتے ہیں۔آپ کا نمونہ دنیا کے لئے بہترین نمونہ ہے آپ کی زندگی کا نصب العین احکام خداوندی کی پیروی کرنا اور خدا کا قرب حاصل کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ رسول کریم کا فرمانبردار نہ ہو۔اور اپنے دائرہ عمل کا مرکز صرف خدا کی رضا مندی نہ سمجھے۔اسی لئے آپ قرآن کریم میں خدا کی زبان سے فرماتے ہیں۔اے لوگو! تم رسول کریم کی پیروی کرو۔خدا پر تو کل رکھو اور کسی سے نہ ڈرو۔جب تک پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو۔کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔آپ کے اخلاق ایسے تھے کہ دنیا حیران رہ گئی۔چنانچہ لوگ پکار اٹھے کہ اتنے عمدہ اخلاق اور کوئی نہیں دکھا سکتا۔یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے۔آنحضرت نے واقعی ہمدردی اور محنت اٹھانے میں اپنی جان کو وقف کر دیا تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد ! کیا آپ اس غم اور فکر میں اپنے تئیں ہلاک کر دیں گے کہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: کہ رسول کریم سے بڑھ کر کون ہو