خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 310 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 310

310 اختتامی خطاب بر موقع سالانہ اجتماع 1964ء تشہد وتعوذ کے بعد فرمایا الحمد لله الحمد لله الحمد للہ کہ لجنہ کا اجتماع کامیابی کے ساتھ ختم ہو گیا۔تمام پروگرام اور تقاریر کا اثر ایک بیج ہے جو آپ لوگوں کے دلوں میں ڈالا گیا ہے اس کا نتیجہ بعد میں ظاہر ہو گا۔اگر تو اس اجتماع میں شمولیت کا ثمر اس رنگ میں ہو کہ آپ میں کام کے لئے امنگ پیدا ہو اور ترقی کرنے کا جذبہ آپ کی ترقی کا موجب ہو تو واقعی اس اجتماع کا کچھ فائدہ بھی ہوگا۔ورنہ یہ سب وقت کا ضیاع اور مال کا ضیاع ہے۔لجنہ اماءاللہ کے قیام پر آج 32 سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور سلسلہ احمدیہ کے قیام کو پون صدی۔مگر کیا ہم آج اطمینان سے یہ کہہ سکتی ہیں کہ جو کام ہمارے ذمہ لگایا گیا تھا۔وہ ہم نے پورا کر دیا ؟ بے شک قادیان اور قادیان سے مبعوث ہونے والے عظیم الشان مامور کی شہرت تمام دنیا میں پھیل چکی ہے اور دنیا کے کونے کونے میں اس کے دعوی کے منادی پہنچ رہے ہیں۔مگر کیا ہمارا کام ختم ہو گیا ہے؟ نبی جماعت کا باپ ہوتا ہے اور اس کو ماننے والی جماعت تمام دنیا کے لئے باپ کی حیثیت رکھتی ہے اور جس طرح نبی اپنی جماعت کی ترقی و بہبودی کے لئے کوشاں رہتا ہے اسی طرح اس کی جماعت کا فرض ہے کہ وہ تمام دنیا کی بھلائی اور ہدایت کے لئے کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والوں کی حیثیت سے ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم تمام دنیا کو لباس تقویٰ پہنا ئیں۔ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم تھوڑے ہیں اور ہمارے وسائل محدود ہیں اور ساری دنیا کو پیغام حق نہیں پہنچا سکتے۔کیا ایک غریب ماں باپ جن کے آٹھ دس بچے ہوں ایسا کریں گے کہ ایک بچہ کی تعلیم و تربیت پر تو پوری توجہ صرف کریں اور باقیوں کو ایسے ہی چھوڑ دیں؟ آپ لوگوں نے مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے ان کی کامل فرمانبرداری کا عہد کیا ہے۔آپ کو چاہئے کہ اسلام کے اس میٹھے اور ٹھنڈے چشمے کی طرف دنیا کی تمام تشنہ روحوں کی رہنمائی کریں اور جس نعمت کو آپ نے پایا ہے۔دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں۔جب تک اسلام کا غلبہ نہ ہو جائے آپ کو اس وقت تک چین نہیں لینا چاہئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی مشنری کیسے تمام ممالک میں پھر کر تکالیف اٹھا کر اپنے مذہب کا پر چار کرتے ہیں۔حالانکہ ان کا مذہب اسلام کی طرح زندہ مذہب نہیں ہے۔اگر وہ لوگ ایک مردہ مذہب کے لئے قربانیاں کر سکتے ہیں اور تکالیف برداشت کر سکتے ہیں تو کیا آپ لوگ زندہ خدا اور زندہ مذہب کی خاطر کام نہیں کر سکتیں؟ کیا آپ دنیا میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت قائم کرنے کے لئے اور