خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 311 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 311

311 آنحضرت ﷺ کے دین کو پھیلانے کے لئے قربانی نہیں کر سکتیں؟ اگر ہم میں سستی اور غفلت اور کام سے بے تو جہی رہی تو سو سال کے بعد بھی ہماری منزل اتنی ہی دور رہے گی جتنی کہ اب ہے۔اگر ہم اسلام کی فتح چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی رفتار میں تیزی پیدا کرنی ہوگی۔اپنی جان، مال، عزت، آبر و غرض ہر چیز کو قربان کرنا ہوگا۔عزم ہی ہمیں کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے کسی قسم کی مخالفت ہمارے کام میں روک نہیں بننی چاہئے۔اگر آپ اپنے مقصد میں کامیابی چاہتی ہیں تو آپ کو دنیا کے ہر پیچ اور خار دار رستوں پر سے یوں گزرنا ہوگا گویا کہ وہ پھول ہیں۔اور ساری دنیا کو یہ بتانا ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آگئے ہیں۔آپ دہریت اور عیسائیت کے اس سمندر میں سے خدا تعالیٰ کی نصرت طلب کرتے ہوئے ہی گزرسکتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے لئے ایک کشتی نوح تیار کی ہے جس میں بیٹھ کر آپ خود کو اور دوسروں کو پار لے جاسکتی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ کو قربانی۔اخلاص، تو کل علی اللہ ، سادگی باہمی اخوت و ہمدردی خوش اخلاقی اور محبت کی عادات اپنانی ہوں گی۔تحریک جدید کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔اشاعت اسلام اور اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔شریعت کی امانت ایسی چیز ہے جس کا بوجھ اٹھانے سے زمین و آسمان نے انکار کر دیا۔مگر صرف آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کی فلاح و بہبود کی خاطر اس کو اٹھایا۔ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ڈوبتے ہوؤں کو پار لگا ئیں۔میری بہنو! خواب غفلت سے اٹھو نہ جانے یہ بہار کے دن پھر کب آئیں۔خدا تعالیٰ نے ہمیں مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں پیدا کیا۔بہت انتظار کے بعد مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے۔مگر اب دنیا نے منہ پھیر لیا۔اب تشنہ روحوں کی پیاس بجھانا تمہارا کام ہے۔اب تک جو کام ہم نے کیا وہ بہت تھوڑا ہے۔آپ کا سب سے بڑا کام ساری دنیا کو محمد ﷺ کی غلامی میں لانا ہے۔ایک جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔خدا تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ترقی کا وعدہ ہے مگر اس ترقی اور غلبہ کو قریب لانا ہمارا کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔بکوشید اے جوانان تابه دیں قوت شود پیدا بہار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا احمدیت کی ترقی اور غلبہ میں اگر ہماری سعی اور کوشش شامل نہ ہوئی تو آخر میں ہم سوائے کف افسوس ملنے کے اور کچھ نہ کرسکیں گی۔مانا کہ ہم تھوڑے ہیں اور ہمارے وسائل محد و دیگر کام کرتی جائیں اور خدا کے