خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 309
309 کر ایک غیر شخص بھی جان لے کہ یہ لوگ ایک بہت بڑے نبی کے پیرو ہیں اور واقعی اس مذہب کی تعلیم اعلیٰ و اکمل ہے۔آپ نے فرمایا اگر پاکستانیوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جس کے اعمال اسلامی تعلیم کے منافی ہیں تو ذمہ داری عورتوں پر ہی پڑتی ہے کیونکہ اگر وہ بچوں کو اچھی تربیت دیں اور اسلامی تعلیم کے مطابق ان کی پرورش کریں تو وہ بڑے ہو کر ایسے شہری بنیں گے جن میں وہ اخلاق جن کے لئے حضرت رسول اکرم ﷺ تشریف لائے نمایاں طور پر پائے جائیں گے۔آپ نے فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اغراض میں سے ایک بڑی غرض اور مقصد اخلاق اور اعمال کی اصلاح ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ محض زبانی اقرار اور بیعت کچھ بھی نہیں جب تک کہ حقیقی تقویٰ نہ ہو۔صرف چھلکے سے کام نہیں بن سکتا بلکہ مغز کی ضرورت ہے۔سیدہ موصوفہ صاحبہ نے فرمایا! انسان اپنے اعمال اور اخلاق کو سنوارنے کے لئے نمونے کا محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تمام انسانوں کے لئے مکمل ترین نمونہ بنا کر بھیجا ہے۔آپ ﷺ کی مکمل پیروی اور اتباع خدا تعالیٰ کی محبت کی محرک ہے۔جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ - ال عمران: 32) اور آپ ﷺ کی اطاعت سے مراد صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کی مکمل پیروی ہے۔ہر اس فعل کو جسے اسلام خوبی اور اچھائی قرار دیتا ہے۔اپنے میں پیدا کرنے کی کوشش اور جس کو اسلام بُرا کہتا ہے۔اس سے کلیہ بچنے کا نام کامل اتباع ہے آپ نے فرمایا عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی سیرت کا بکثرت مطالعہ کریں اور پھر اس کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کریں۔آپ نے فرمایا: خدا تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ احمدیت کی ترقی اور غلبہ کے متعلق بہت سے وعدے ہیں مگر احمدیت کی ترقی خلافت سے وابستہ ہے۔جب تک خلافت جاری ہے۔ترقی بھی جاری رہے گی۔آپ نے فرمایا ہمیں خلافت کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا چاہئے اور ہر اس فتنہ پرداز عنصر کو جو خلافت کے خلاف ہو اپنے سے الگ کرنا چاہئے۔مصباح نومبر 1964