خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 305
305 افسوس کہ چودہ سو سال کے بعد مسلمان وہ اخلاق بھول گئے جن کا سبق محمد رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیا تھا اور دوسری اقوام نے ان اخلاق کو اپنا لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آں معلم توئی کہ در دوراں چون تو دیگر نے دهند نشاں شرح خُلقش کجا تو حسن آں عاجزاز بیانم انم کرد کرد در مکنون صفحه 114 ترجمہ: آپ ﷺ زمانے میں ایسے عظیم الشان استاد ہیں کہ آپ ﷺ کی شان کے کسی اور استاد کا نشان نہیں ملتا میں آپ ﷺ کے اخلاق کی شرح کیسے بیان کر سکتا ہوں میں تو آپ ﷺ کی خوبیوں کو بیان کرنے سے عاجز ہوں۔یہ غلط خیال دنیا میں رائج ہے کہ انسان کے اگر اخلاق بگڑ جائیں تو وہ ان کو بدلنے پر قادر نہیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں لكل داء دواء ہر مرض کا علاج موجود ہے جس طرح ظاہری امراض کا علاج ممکن ہے اسی طرح روحانی امراض کا بھی اللہ تعالیٰ بھی قرآن مجید میں فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لا يُغَيِّرُ مَ بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ (الرعد: 12) یعنی اللہ تعالیٰ بھی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اس برائی کو دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔صرف ہمت اور کوشش کی ضرورت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَدِيَنْهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) کوشش کرنے والا آخر منزل مراد کو پالیتا ے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کے لئے ایسے راستے کھول دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر سکے۔پس ہمیں چاہئے کہ اپنے ہر قول و فعل میں محمد رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کی پیروی کریں۔اپنی اولادوں کو آپ ﷺ کے منہ پر چلنے کی تلقین کریں اور دنیا کے سامنے آپ ﷺ کے اخلاق فاضلہ اور کی سیرت طیبہ کو بار بار پیش کریں تا کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ ہماری نجات ہمارے پیارے آقا کی اطاعت سے ہی وابستہ ہے اور آپ ﷺ کی اطاعت سے ہی خدا تعالیٰ بھی ہمیں مل سکتا ہے۔