خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 302
302 ہیں کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ روز جزا کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔آنحضرت ﷺ ایک دفعہ بازار میں سے گزر رہے تھے آپ ﷺ نے غلہ کا ایک ڈھیر دیکھا اس میں ہاتھ جو ڈالا تو وہ اندر سے گیلا تھا اور باہر سے بالکل سوکھا۔آپ ﷺ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا مَنْ غَضٌ فَلَيْسَ مِنی (مسلم کتاب الایمان ) یعنی جو شخص تجارت یا دوسرے لین دین میں دھوکا بازی سے کام لیتا ہے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ آپ ﷺ کی اس تلقین کے نتیجہ میں اور آپ کے اخلاق فاضلہ دیکھ کر مسلمانوں میں اس اعلیٰ درجہ کے اخلاق پیدا ہوئے کہ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک فروخت کر نیوالا اپنی چیز کی جو قیمت بتا تا خریدنے والا کہتا تم جو قیمت لگا رہے ہو وہ کم ہے اس کی قیمت زیادہ ہے میں زیادہ دوں گا۔مظلوموں سے ہمدردی:۔آپ ﷺ کا وجود مظلوموں کے لئے رحمت کا باعث تھا۔آپ ﷺ نے بعثت سے قبل ایک مجلس قائم کی جس کا نام مجلس حلف الفضول تھا اور جس کا مقصد یہ تھا کہ اس میں شامل ہونے والے مظلوموں کی حمایت کریں گے۔آپ ﷺ کبھی بھی مظلوم پر ظلم ہوتا دیکھ نہ سکتے تھے۔ایک شخص کا ابوجہل نے قرضہ دینا تھا وہ اپنا قرضہ وصول کرنے آیا ابو جہل نے انکار کر دیا وہ مکہ میں کئی لوگوں کے پاس گیا بعض لوگوں نے اسے محمد رسول اللہ ﷺ کا پتہ از راہ شرارت بتایا کہ وہ تمہاری مدد کریں گے ان کو معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ فور اس کی مدد کے لئے تیار ہو جائیں گے اور جب ابو جہل کے پاس جائیں گے تو وہ آپ ﷺ کو ذلیل کر کے نکال دے گا۔چنانچہ وہ شخص آپ کے پاس گیا آپ ﷺ اس کو لے کر ابو جہل کے گھر گئے دروازه پر دستک دی ابو جہل باہر آیا تو آپ ﷺ نے ابو جہل سے کہا کہ تم نے اس شخص کی اتنی رقم دینی ہے ابھی دو۔ابو جہل نے اسی وقت ادا کر دی۔بعد میں رؤسائے مکہ نے کہا کہ تم کو کیا ہو گیا تھا کہ تم نے محمد کی بات مان لی ہمارے سامنے تو تم ڈینگیں مارتے تھے میں یوں کروں گا۔اس پر وہ کہنے لگا تم صلى الله میری جگہ ہوتے تو یہی کرتے میں نے دیکھا کہ محمد (ﷺ) کے دائیں اور بائیں مست اونٹ کھڑے ہیں جو مجھے ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مظلوموں کی حمایت میں آپ ﷺ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔ایسے انسان کے گھر جو آپ کی جان کا لا گو تھا اکیلے مظلوم کی حمایت میں پہنچ گئے۔ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اُنْصَرُ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا