خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 303 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 303

303 (بخاری کتاب المظالم و الغصب) اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم۔صحابہ نے پوچھایا رسول اللہ کے مظلوم کی مدد تو ہوئی ظالم کی کس طرح مدد کی جائے۔آپ ﷺ نے فرمایا ظالم کی مدیہ ہے کہ اس کو ظلم نہ کرنے دو۔اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا لایؤمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ - بخاری کتاب الایمان) کوئی شخص سچا مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی بات پسند نہ کرے جو وہ اپنے پسند کرتا ہے۔یہ فرما کر آپ ﷺ نے ظلم کا دروازہ بالکل ہی بند کر دیا۔اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص کوئی خلاف اخلاق بات دیکھے تو اسے چاہئے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے یعنی اگر ظلم ہوتا دیکھے تو ظالم کا ہاتھ پکڑ لے اگر ہاتھ پکڑنے کی طاقت نہیں تو پھر زبان سے ہی منع کر کے اصلاح کی کوشش کرے اور اگر زبان سے بھی منع نہ کر سکے تو کم از کم دل میں ہی بُرا مان لے۔شجاعت:۔شجاعت ایک اعلیٰ درجہ کا خلق ہے اگر انسان میں سچائی، دیانت، ہمدردی صلہ رحمی، صبر تو پائے جاتے ہیں مگر دلیری نہ ہو شجاعت نہ ہو تو وہ اعلیٰ درجہ کا اور کامل انسان نہیں کہلا سکتا۔ہوسکتا ہے کہ اس نے صبر اس لئے کیا ہو کہ وہ بزدل ہو لیکن آنحضرت ﷺ میں جہاں اور اخلاق اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے تھے وہاں آپ کے برابر کوئی اور دلیر اور بہادر نہ تھا۔غزوہ حنین میں جب اسلامی لشکر حسنین کے مقام پر پہنچا تو دونوں طرف ہوازن اور ان کے مددگار قبائل کے تیر انداز بیٹھے تھے اور درمیان میں ایک تنگ راستہ مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیا تھا جب مسلمان کافی آگے بڑھ چکے تو تینوں طرف سے دشمن نے تیراندازی شروع کر دی مکہ کے لوگ اس شدید حملہ کو برداشت نہ کر سکے اور واپس لوٹے ان کے بھاگنے کی وجہ سے سارے لشکر میں ابتری پھیل گئی مسلمانوں کے قابو سے ان کی سواریاں نکل گئیں۔رسول کریم ﷺ کے ساتھ صرف بارہ صحابہ صلى الله رہ گئے باقی صحابی میدان جنگ میں آپ ﷺ سے دور تھے اور کوشش کے باوجود آپ ﷺ تک نہ پہنچ سکتے تھے صرف ایک راستہ پیچھے کی طرف تھا۔حضرت ابو بکر نے آپ ﷺ کی سواری کی باگ پکڑ لی اور کہا یا رسول اللہ لیے تھوڑی دیر کے لئے پیچھے ہٹ آئیں تا کہ اتنے میں لوگ جمع ہو جائیں آپ ﷺ کہتے ہیں ابوبکر میری باگ چھوڑ دو اور پھر ایڑی لگاتے ہوئے آپ ﷺ نے اسی راستہ پر بڑھنا شروع کیا اور بلند آواز سے کہتے جاتے تھے اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ - (بخاری کتاب المغازی)