خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 300
300 مسلمانوں نے تلواریں میان سے نکال لیں کہ ہم مر جائیں گے لیکن ابو جندل کو تکلیف سے بچائیں گے خود صلى الله ابو جندل گریہ وزاری کر رہا تھا کہ مجھے نہ جانے دیں لیکن رسول کریم ﷺ فداہ ابی وامی و روحی نے فرمایا " خدا کے رسول معاہدہ نہیں تو ڑا کرتے ہم معاہدہ کر چکے ہیں ابو جندل تم صبر سے کام لو۔“ صبر واستقامت :۔صبر اور استقامت کا جو نمونہ آپ ﷺ نے دکھایا تاریخ عالم اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتی۔مکہ میں کے ساتھ وہ وہ ظلم کئے گئے کہ اس سے قبل کسی نبی کے ساتھ ایسا سلوک روا نہ رکھا گیا ہوگا مگر نے خدا تعالیٰ کی راہ میں صبر سے کام لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب رسالہ اسلام اور جہاد میں فرماتے ہیں: ” خدا کے پاک اور مقدس رسول کو جس پر زمین اور آسمان سے بے شمار سلام ہیں بارہا پھر مار مار کر خون سے آلودہ کیا گیا مگر اس صدق اور استقامت کے پہاڑ نے ان تمام آزاروں کی دلی انشراح اور محبت سے برداشت کی۔روحانی خزائن جلد 17۔رسالہ اسلام اور جہاد صفحہ 5 ”ہمارے نبی ﷺ نے اپنے زمانہ میں خود سبقت کر کے ہرگز تلوار نہیں اٹھائی بلکہ ایک زمانہ دراز تک کفار کے ہاتھ سے دکھ اٹھایا اور اس قد رصبر کیا جو ہر ایک انسان کا کام نہیں اور ایسا ہی آپ ﷺ کے اصحاب بھی اسی اعلیٰ اصول کے پابند ر ہے اور جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ دکھ اٹھاؤ اور صبر کر وایسا ہی انہوں نے صدق اور صبر دکھایا وہ پیروں کے نیچے کچلے گئے انہوں نے دم نہ مارا ہمارے سید و مولی اور آپ ﷺ کے صحابہ کا یہ صبر کسی مجبوری سے نہیں تھا بلکہ اس مبر کے زمانہ میں بھی آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کے وہی ہاتھ اور بازو تھے جو جہاد کے حکم کے بعد انہوں نے دکھائے۔اور بسا اوقات ایک ہزار جوان نے مخالف کے ایک لاکھ سپاہی نبردآزما کو شکست دے دی۔ایسا ہوا تا لوگوں کو معلوم ہو کہ جو مکہ میں دشمنوں کی خونریزیوں پر صبر کیا گیا تھا اس کا باعث کوئی بزدلی اور کمزوری نہیں تھی بلکہ خدا کا حکم سن کر انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور بکریوں اور بھیڑوں کی طرح ذبح ہونے کو تیار ہو گئے تھے۔بے شک ایسا مبر انسانی طاقت سے باہر ہے اور وہم تمام دنیا اور تمام نبیوں کی تاریخ پڑھ جائیں تب بھی ہم کسی امت میں اور کسی نبی کے گروہ میں یہ اخلاق فاضلہ نہیں پاتے۔“ روحانی خزائن جلد 17 رسالہ اسلام اور جہاد صفحہ 10