خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 294 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 294

294 خلاصہ قرآن ہے یعنی قرآن مجید میں جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان پر آپ ﷺ عمل پیرا تھے جن باتوں کے کرنے سے روکا گیا ہے ان سے آپ ﷺ پر ہیز فرماتے تھے۔جن باتوں کی آپ ے دنیا کو تعلیم دیتے تھے ان پر پہلے خود عمل فرماتے تھے۔گویا آپ ﷺ کی ساری زندگی قرآن مجید کی تفسیر کا ایک زندہ نمونہ تھی اور اسی چیز کوخود اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے قُلْ إِنَّ صَلوتِی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَالِكَ أُمِرُتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ - (الانعام: 163 تا 164) کہ میری عبادت، میری قربانیاں، تمام نیکیاں، اخلاق، بنی نوع انسان کی خدمت اور دنیا میں اپنے مشن کی تکمیل کے بعد پھر مولا کے حضور حاضر ہونا یہ سب خدائے وحدہ لاشریک کے لئے تھے جس نے مجھے مامور فرمایا تمام انبیاء ہی تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللَّهِ کا نمونہ ہوتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی صفات میں رنگین ہو کر خود خدا نما بن کر دنیا کو زندہ خدا کا پتہ دیتے ہیں لیکن نبی کریم ہے جو خاتم النبیین تھے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اکمل ترین نمونہ تھے۔ا۔۲۔محمد ہیں نقش نور خداست کہ ہرگز بجوئے بگیتی نخاست تهی بود از راستی ہر دیار بکردار آں شب ، که تاریک و تار۔خدایش فرستاد و حق گسترید ۴۔زمین را بداں مقدمے جال دمید نهالیست از باغ قدس و کمال ہمہ آل او • ہمچو گلہائے آل ترجمہ :۔محمد عل خدا تعالیٰ کے نور کے سب سے بڑے نقش ہیں آپ ﷺ جیسا انسان کبھی دنیا میں پیدا نہیں ہوا۔۔ہر ملک سچائی اور صداقت سے خالی تھا اور اس رات کی مانند تھا جو بالکل تاریک ہو۔خدا تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور حق کو پھیلا یا ز میں میں آپ ﷺ کی آمد کی وجہ سے زندگی کی روح دوڑ گئی۔