خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 293
293 اصلاح کی ذمہ داری ڈالی گئی تو اس عظیم الشان ذمہ داری کے احساس سے آپ ﷺ میں ایک طبعی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور اسی گھبراہٹ کی حالت میں آپ ﷺ گھر تشریف لے گئے۔حضرت خدیجہ سے فرمایا زَمِّلُونِي زَمَلُونی مجھے کپڑا اوڑھا دو۔حضرت خدیجہ کے پوچھنے پر آپ ﷺ نے سارا واقعہ سنایا تو آپکی ہمراز کے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے جو تاریخ اسلام میں سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔كَلَّا وَاللهِ لَا يُخْزِيْكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ( بخاری کتاب بدء الوحی ) خدا تعالیٰ کی قسم اللہ تعالی آپکو کبھی نا کام نہیں کرے گا۔آپ ﷺے رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے ہیں بے کس اور بے سہاروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں۔وہ اخلاق جو دنیا سے مٹ چکے ہیں ان کو پھر سے رائج کر رہے ہیں۔مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔آپ ﷺ کی پاکیزگی اور تقدس اور اعلیٰ اخلاق کے متعلق یہ اس عورت کی گواہی ہے جو آپ علی کی محرم را ز تھیں اور جنہوں نے آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کا شہرہ سن کر ہی آپ ﷺ سے شادی کی تھی جو آپ ﷺ سے عمر میں بڑی تھیں خود مالدار تھیں لیکن آپ ﷺ کی نیکی تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ اپنی سب دولت آپکے قدموں پر نچھاور کر دی۔اور آپ کا پ ﷺ نے وہ دولت اپنے لئے نہیں رکھی بلکہ سب کی سب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرما دی۔اور آپ ﷺ کے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا۔حضرت خدیجہ کی یہ شہادت آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے متعلق کوئی معمولی شہادت نہیں۔اس شہادت میں جن اخلاق کا آپ ﷺ نے ذکر فرمایا ہے وہ معمولی اوصاف نہیں بلکہ غور سے دیکھا جائے تو یہ اخلاق ہی ساری نیکیوں کی جڑ ہیں۔آپ ﷺ کے الفاظ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ نے ہی بتا دیا کہ اس زمانہ میں اخلاق اور نیکی باقی نہ رہی تھی اور وہ کالعدم ہو کر رہ گئے تھے۔آپ ﷺ کی ذات مبارک کی وجہ سے وہ اخلاق پھر سے زندہ ہوئے اور وہ نیکیاں پھر سے قائم ہوئیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِك وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ - - اسی مضمون کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک چھوٹے سے جملے میں ادا فرما دیا۔کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے متعلق ہمیں کچھ بتا ئیں۔آپ نے فرمایا كَانَ خُلُقُهُ القُرآن ( مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) آپ ﷺ کے اخلاق کی تفصیل کا