خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 287
287 اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ (النور: 36) خدا آسمان اور زمین کا نور ہے۔ہر ایک نور اللہ تعالیٰ ہی کے فیض کا عطیہ ہے۔اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں۔انسان ہو یا حیوان۔حجر ہو یا شجر۔روح ہو یا جسم۔یہ خدا تعالیٰ کا عالم فیضان ہے اس کے بالمقابل ایک خاص فیضان بھی ہے جو خاص خاص افراد پر جاری ہوتا ہے یعنی انبیاء پر جن میں سے اکمل ترین وجود محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے نور نبوت اور آپ ﷺ کے اخلاق کا ملہ کا ذکر فرمایا ہے۔شجرہ مبارکہ سے مراد آنحضرت ﷺ کا وجود با برکت ہے جس کا فیضان کسی خاص زمانہ سے مخصوص نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے اور ہمیشہ کے لئے ہے اور شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی یعنی آنحضرت ﷺ کے اخلاق میں نہ افراط ہے نہ تفریط جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمِ (التين : 5) حضرت موسیٰ" کے مزاج میں جلالی رنگ تھا۔حضرت مسیح کے کیریکٹر کی نمایاں چیز حلم اور نرمی تھی مگر آنحضرت ﷺ کا مزاج مبارک میانہ رو تھا نہ ہر جگہ حلم پسند تھا نہ ہر مقام پر سختی تھی بلکہ موقع اور محل کے لحاظ سے عمل فرماتے تھے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عظيم (القلم: (5) عظیم کا لفظ انتہائے کمال پر دلالت کرتا ہے - اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کاملہ تا مد نفس محمدی میں موجود ہیں۔سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرت ﷺ کے حق میں فرمایا وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء: 114) یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔“ براہین احمدیہ صفحہ 606 بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 3