خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 285 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 285

285 چادر سے ڈھانک لیا۔اس حدیث سے ثابت ہے کہ چہرہ کا پردہ لازمی ہے آجکل کی بعض مستورات صحیح پردہ نہیں کرتیں عہدہ داران اور کارکنات کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اسلامی پردہ کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ گھر میں قید ہو کر رہ جائیں بلکہ جس طرح بے پردگی نا واجب رہتی ہے اسی طرح گھر میں قید ہو کر رہ جانا بھی دوسری نا واجب انتہا ہے یہ ثابت ہے کہ صحابیات جنگوں میں شریک ہوتیں خرید و فروخت کے لئے بھی باہر جاتیں اور اپنی تمام ضروریات بھی باہر نکل کر پوری کر لیتیں۔جبکہ صحابیات اتنے بڑے بڑے کام پردہ سے کر سکتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اب پردہ نہ کیا جائے۔پردہ کے اس حکم سے منہ موڑنے کی وجہ سے آپ کئی ایک اور گناہوں کی مرتکب بھی ہو سکتی ہیں۔اسلام کی تعلیم تو اطاعت امام کے محور پر گھومتی ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی شرائط بیعت میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ عورتیں آپ کی ہر نیک کام میں پیروی کریں پھر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند اقتباسات سے پردہ کی اہمیت کو واضح کیا اور پھر بتایا کہ خلیفہ وقت کا ارشاد ہے کہ جولوگ اپنی عورتوں کو مکسڈ پارٹیوں میں لے جاتے ہیں جماعت کو چاہئے کہ ان سے کلام کرنا چھوڑ دیں اگر کوئی عورت پر دہ چھوڑتی ہے تو وہ قرآن کریم کی ہتک کرتی ہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ ان سے کوئی تعلق نہ رکھیں آنے والے مسیح کی غرض دوبارہ دین کو زندہ کرنا اور شریعت کو قائم کرنا تھی۔پر وہ شریعت کے احکام میں سے ہے ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں سے ہیں اور آپ کو نبی برحق جانتے ہیں۔ہمارے لئے انتہائی افسوس کا مقام ہوگا کہ اگر ہم خدا تعالیٰ کے ایک واضح حکم کی تعمیل نہیں کریں گی۔لہذا میں عورتوں سے دکھے دل سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنے امام کے احکام پر عمل پیرا ہوں امید ہے کہ بہنیں ٹھنڈے دل سے میری باتوں پر غور کریں گی انسان اگر اپنی اصلاح کرنا چاہے تو پہلے اسے ماحول کی اصلاح کرنا ہوگی اگر آپ کی بچیاں غیر اسلامی ماحول میں تربیت پا رہی ہیں تو آپ اس ماحول کی اصلاح کریں یا کم از کم اس ماحول سے اپنی بچیوں کو بچائیں۔ان کی تربیت کریں اور ان کے نیک عمل کو اسلامی احکام کے مطابق بنانے کی کوشش کریں اس وقت ہمیں دعووں کی نہیں بلکہ عمل کی ضرورت ہے ہر کارکن اور عہدیدار اس بات کی ذمہ دار ہے کہ وہ عورتوں کی اصلاح کرے۔اگر ایسا ہو جائے گا تو تمام قو میں لبیک کہتی ہوئی اسلام کی طرف آجائیں گی۔الفضل 4 جنوری 1964ء