خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 281 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 281

281 ﷺ کی تعلیم کا تمام خلاصہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ میں آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قُلْ إِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام: 163) فرما کر بتا دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حقیقی بندہ کہلانے کا مستحق وہی ہے جس کی تمام زندگی خدا تعالیٰ کی خاطر ہو۔۔۔کامل توحید کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے بندوں سے وابستگی نہایت ضروری ہے۔اس لئے اسلام کی تعلیم اَطِیعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِى الأمرِ مِنْكُمُ (النساء : 32) کے محور پر گھومتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی کامل اطاعت کی جائے احمدی مستورات میں جذ بہ اطاعت اور فرمانبرداری اس شدت سے کارفرما نہیں جیسا کہ ہونا چاہئے حالانکہ عورت میں فطری طور پر قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔پس اگر آپ چاہتی ہیں کہ لجنہ ترقی کرے جماعت ترقی کرے۔تو ضروری ہے کہ تمام احمدی مستورات میں یہ جذ بہر ہو کہ ہم نے اپنے عہدہ داروں کی کامل اطاعت کرنی ہے کیونکہ وہ عہدہ دار خود نہیں بنے ہوتے حضرت خلیفہ مسیح کی منظوری سے ان کا تقرر ہوا ہوتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کو انعام قرار دیا ہے اور فرماتا ہے کہ جب تک مسلمان اپنے آپ کو خلافت کا حق دار قرار دیتے رہیں گے یہ انعام ان میں قائم رہے گا۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی دعاؤں اور اپنے عمل سے اس انعام کو قیامت تک قائم رکھنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (ال عمران:32) خدا تعالیٰ سے محبت کو آنحضرت ﷺ کی اطاعت کے ساتھ مشروط فرما دیا۔پھر اس شرط کو پورا کرنے کا انعام اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت قرار دیا۔ہماری تنظیم بھی اسی وقت ترقی کر سکتی ہے جب ہم اپنی زندگیوں کو اسوہ رسول کریم ﷺ کے مطابق ڈھالیں اور ہمارے دل اور ہمارے جسموں کا رواں دواں آنحضرت ﷺ کی اتباع میں پکار رہا ہو۔اِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام: 163) اسلامی تعلیم کا دوسر استون خلق اللہ کی خدمت ہے۔حضرت مسیح موعود یہ السلام نے بھی جماعت کو بار بار یہی نصیحت فرمائی ہے۔آپ ﷺ فرماتے ہیں:۔باہم اتفاق رکھو۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرو۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 336