خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 280 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 280

280۔۔۔۔۔۔افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 1963ء اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ پھر آپ سب کو اپنے روحانی مرکز میں جمع ہونے کا موقع عطا فرمایا ہے تا آپ سب اور ہم بھی ان روحانی فیوض کو حاصل کریں جو مرکز کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔۔۔نمائندگی کا فرض صرف تین روز میں ختم نہیں ہو جاتا۔بلکہ یہاں جو فیصلے کئے جاتے ہیں ان پر اپنی لجنہ کی تمام ممبرات کو عمل کروانا اور ان کی ذمہ داریوں کی طرف ان کو توجہ دلانا ان میں کام کا جذ بہ پیدا کرنا اور قوم کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا کرنا آپ کا کام ہے۔اگر آپ یہاں سے واپس جا کر اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتیں اور جو امانت یہاں آپ کے سپرد کی جاتی ہے وہ اپنی ممبرات تک نہیں پہنچا تیں تو آپ کی نمائندگی کا کوئی فائدہ نہیں۔جب تک انسان کے سامنے کوئی نصب العین نہ ہو انسان صحیح طور پر عمل نہیں کر سکتا۔ہمارا نصب العین خواہ کچھ بھی کہہ لو وہی ہے جو انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے:۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذريت: 57)۔۔۔انبیاء کی بعثت کا مقصد جہاں خالق حقیقی سے تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے وہاں مخلوق خدا سے شفقت، ہمدردی ، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا ، خدا تعالیٰ کی خاطر خدا تعالیٰ کے بندوں سے محبت کرنا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی مشن کے ساتھ مبعوث ہوئے۔آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے الہام بتایا : - خُذُوا التَّوْحِيدَ التَّوْحِيدَ يَا ابْنَاءَ الْفَارِسِ (تذکره صفحه 197)۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں اوّل خدا کی توحید اختیار کرو دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 336 سچی توحید کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔الہ کہتے ہیں مقصود معبود - مطلوب کو لا اله الا اللہ کے معنی یہی ہیں کہ لَا مَعْبُودَ لِي وَلَا مَقْصُودَ لِى وَلَا مَطْلُوبَ لِی اِلَّا الله۔یہی سچی توحید ہے۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 321 پس ہماری زندگی کا اولین مقصد ہماری تنظیموں کا نصب العین توحید کامل کا قیام ہے۔آنحضرت