خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 274
274 آنحضرت ﷺ اپنے زمانہ کے لئے اس لئے بھی رحمت کا وجود تھے کہ آپ سے پہلے جتنے انبیاء آئے وہ صرف اپنے ملکوں یا جماعتوں کی طرف آئے۔لیکن محمد رسول اللہ ساری دنیا کی ہدایات کے لئے مبعوث فرمائے گئے۔اور یہی آپ کا دعوی تھا کہ:۔میں دنیا کی ہر قوم اور شخص کی ہدایت کے لئے آیا ہوں“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا۔یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا کسی اور کی طرف نہیں بھیجا گیا۔اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعوی تبلیغ عام کا عین موقعہ پر ہے۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا (الاعراف: 59) دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوت اسلام کے خط لکھے تھے۔کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہرگز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے۔یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی اور مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اور اس کے ہاتھ سے کمال تک پہنچی۔“ چشمه معرفت صفحہ 76 77 - روحانی خزائن جلد 23 کے آپ ﷺ کا وجود آئندہ قیامت تک کے لئے رحمت کا باعث تھا۔آپ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء آئے ان کا فیض ایک عرصہ کے بعد بند ہو گیا۔لیکن آنحضرت ﷺ کا فیض جاودانی ہے آپ کی بعثت کے بعد کسی اور نبی کے متبع نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے اپنے نبی کے فیض سے الہام الہی کا شرف حاصل ہوا ہو۔لیکن نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد یہ فیض صرف امت محمدیہ سے ہی مخصوص ہو گیا۔جس میں ہزاروں لاکھوں گزرے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی میں اور آپ ﷺ کی طفیل ان پر کلام الہی کا دروازہ کھلا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک عظیم الشان معجزہ آنحضرت ﷺ کا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی وحی منقطع ہوگئی اور مجزات نابود ہو گئے اور ان کی امت خالی اور تہی دست ہے۔صرف قصے ان لوگوں کے ہاتھ میں رہ گئے۔مگر آنحضرت کی وحی منقطع نہیں ہوئی اور نہ منجزات منقطع ہوئے بلکہ ہمیشہ بذریعہ کاملین امت جو شرف اتباع سے