خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 275 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 275

275 مشرف ہیں ظہور میں آتے ہیں۔اسی وجہ سے مذہب اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کا خدا زندہ خدا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس شہادت کے پیش کرنے کے لئے یہی بندہ حضرت عزت موجود ہے۔“ روحانی خزائن جلد 20 چشمہ مسیحی صفحه 351 کی اسی طرح آپ فرماتے ہیں: زندہ نبی وہی ہو سکتا ہے جس کے برکات اور فیوض ہمیشہ کے لئے ہوں اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک کبھی بھی مسلمانوں کو ضائع نہیں کیا۔ہر صدی کے سر پر اس نے کوئی آدمی بھیج دیا جو زمانہ کے مناسب حال اصلاح کرتا رہا۔یہاں تک کہ اس صدی کے سر پر اس نے مجھے بھیجا۔تا کہ میں اسی حیات النبی کا ثبوت دوں۔‘ الحکم 17 فروری 1906ء امت محمدیہ پر اس رحمۃ للعالمین کا کتنا بڑا احسان ہے کہ نہ صرف اس دنیا میں بلکہ قیامت کے دن بھی وہ مسلمانوں کے شفیع ہوں گے۔آخرت کا شفیع بھی وہی ہو سکتا ہے جس نے اس دنیا میں شفاعت کا نمونہ دکھایا۔یہ نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ غریب صحابہ کو تخت پر بٹھا دیا۔یہ آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ مشرکوں کو موحد بنا دیا۔وحشیوں کو انسان بنا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔کہتے ہیں یورپ کے ناداں نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار بنانا آدمی وحشی کو پر معنی راز نبوت ہے اک معجزه ہے اسی آشکار نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار (در مشین ص : 143) اور یہ بھی آپ ﷺ کی شفاعت اور رحمت کا ثبوت ہے کہ اب تک آپ ﷺ کی پیروی کرنے والے خدا کا سچا الہام پاتے ہیں۔اور یہ بھی آپ ﷺ کی شفاعت اور رحمت کا ثبوت ہے کہ تیرہ سو سال بعد آپ ﷺ کے ایک خادم کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔تا بھولی بھٹکی روحیں صراط مستقیم پر چل کر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکیں۔یہی وہ شفاعت ہے جو دنیا میں انسانوں کے لئے آخرت میں بھی ایک بڑے پیمانہ پر جاری ہوگی۔کسی اور نبی کی اتباع اب کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کا مقرب نہیں بناسکتی۔اب یہ راستہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ کھلا ہے:۔