خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 271
271 دے چکے ہو تو اس سے مت لو۔عورت کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ (سنن ابن ماجہ کتاب المقدمہ) کہ ہر مسلمان مردہ عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایمان میں سب سے کامل وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو بیوی کے حق میں بہتر ہو۔غرض عورت ذات پر آپ ﷺ کے احسانات کو کہاں تک بیان کیا جائے۔عورت نے رحمت للعالمین کی رحمت میں سے وافر حصہ پایا ہے۔عورت مرد کو مساوی حقوق دیئے۔آزادی دی۔مغربی اقوام اسلام پر اعتراض کرتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو آزادی نہیں دی بے شک اسلام نے اس قسم کی آزادی عورت کو نہیں دی جس پر یہ مغربی اقوام عمل پیرا ہیں کہ نہ ماں کو بیٹی کی ہوش نہ بیٹی کو ماں باپ کی ہوش۔اسلام نے عورت کو اپنے دائرہ عمل میں کامل آزادی دی ہے شادی میں وہ آزاد ہے۔ہاں مرد سے آزادانہ اختلاط منع ہے اور اس کے لئے قرآن مجید میں پردہ کے واضح احکام نازل فرمائے۔آج جوعورتیں مغربی تہذیب میں رنگیں ہو کر پردہ چھوڑ رہی ہیں ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اسلام کے ایک قطعی حکم کی خلاف ورزی اور محمد اے کے احکام کی نافرمانی کرتی ہیں۔قرآن مجید میں پردہ کا صریح حکم ہے۔کوئی ابہام نہیں۔آنحضرت ﷺ کی ازواج اور صحابیات نے پردہ کے حکم پر عمل کیا۔اور پردے کے ساتھ ہر قسم کی ترقی کے علم سیکھے۔جنگیں لڑیں۔بیماروں کی تیمارداری کی۔زخمیوں کو پانی پلایا۔اور اپنے قومی فرائض کو نہایت احسن طریق پر انجام دیا۔حیوانات کے لئے رحمت:۔انسانوں کے لئے تو آپ ﷺ رحمت تھے ہی۔بے زبانوں کے لئے بھی آپ ﷺ کا وجود رحمت کا بادل بن کر برسا۔ایک دفعہ ایک شخص نے چڑیا کے بچے پکڑ لئے۔آپ ﷺ نے دیکھ لیا۔فرمایا انہیں لے جاؤ جہاں سے لائے ہو وہیں ان کی ماں کے پاس چھوڑ کر آؤ۔اسی طرح آپ ﷺ نے جانوروں کو باندھ کر ان پر نشانہ بازی سے منع فرمایا۔(سنن ابو داؤد کتاب الادب ) ایک صحابی سے روایت ہے کہ ہم نے چیونٹیوں کا گھر جلا دیا۔رسول کریم ﷺ نے دیکھا اور فرمایا یہ کس نے جلایا ہے؟ معلوم ہونے پر فرمایا آگ سے عذاب دینا تو سوائے آگ کے مالک (یعنی خدا) کے کسی کی شان نہیں۔دشمنوں کے لئے رحمت:۔بے شک آپ ﷺ نے جنگیں لڑیں۔لیکن اپنے دشمنوں کے متعلق آپ ﷺ نے جو تعلیم دی وہ