خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 270 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 270

270 جاتی تھیں۔وہاں بھی عورت کو کوئی آزادی نہیں تھی۔شادی کرنے میں عیسائی عورت کو کوئی آزادی نہ تھی۔کلیسیا کے ایک اشارے پر قتل کر دی جاتی تھی اور سالوں ان کی لاشیں تہ خانوں میں پڑی سڑتی تھیں۔دنیا میں سینکڑوں ریفارمر گزرے لیکن مظلوم طبقہ نسواں کی ذلت دور کرنے کی کسی نے کوشش نہیں کی صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی مقدس ہستی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا تھا وہ ہستی جس طرح مردوں کے لئے رحمت ثابت ہوئی۔اسی طرح عورتوں کے لئے بھی :۔وہ رحمت عالم آتا ہے تیرا حامی ہو جاتا ہے تو بھی انسان کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے ان بھیج ہے ظلموں ނ چھڑوا تا درود اس محسن پر تو دن میں سو سو بار پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار ( در عدن ص: 25) آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورت بھی اللہ تعالیٰ کی ویسی ہی مخلوق ہے جیسے مرد۔اسی طرح آپ علی نے قومی ذمہ داریوں میں مرد اور عورت کو برابر کا شریک قرار دیا۔آپ ﷺ نے فرمایا۔ایک ایماندار اور عفیفہ عورت جو احکام شریعت کی پابند ہو۔جنت میں جس دروازہ سے چاہے داخل ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَعْمَلُ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلِئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا (النساء:125) یعنی خواہ مرد ہوں یا عورتیں اگر وہ نیک افعال کرتے ہیں تو وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرہ بھر بھی ظلم نہ ہو گا۔اس آیت میں مردوں اور عورتوں کو نیک اعمال بجالانے پر یکساں انعام کی بشارت دی ہے۔آپﷺ نے بیوی سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی اور اس معاملہ میں اپنا عملی نمونہ پیش کیا کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لَا هُلِي - ( ابن ماجہ کتاب النکاح باب حسن معاشرہ النساء ) یعنی تم میں اچھا انسان وہ ہے جو اپنے اہل سے اچھا سلوک کرے اور میں اپنے اہل کے حق میں تم سب سے زیادہ اچھا ہوں۔عورت کو اس کی جائیداد کا مالک قرار دیا۔مردوں کو نصیحت فرمائی کہ اگر تم ان میں سے کسی کو خزانہ بھی