خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 266
266 وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَئِكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِيِّنَ وَإِلَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِى الرّقابِ ﴿سورة البقره آیت 178 ترجمہ:۔تمہارے مشرق و مغرب کی طرف منہ پھیرنے میں کوئی بڑی نیکی نہیں۔کامل نیک وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ روز آخرت ، ملائکہ کتاب اور سب نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اللہ کی محبت کی وجہ سے رشتہ داروں یتیموں، مسکینوں مسافر اور سوالیوں نیز غلاموں کی آزادی کے لئے اپنا مال دیتا ہے۔گویا صرف منہ سے توحید کا اقرار کر لینا کوئی چیز نہیں جب تک خدا تعالیٰ کی محبت میں خدا تعالیٰ کے بندوں سے رحمت اور شفقت کا سلوک نہ کرے۔اسی طرح سورۃ پھل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - (النحل : 91) اللہ تعالیٰ عدل احسان اور ایتاء ذی القربی کا حکم دیتا ہے اور ہر ایک قسم کی بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے روکتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا تم سمجھ جاؤ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّہ رشتہ دار سے حسن سلوک کرو۔احسان کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حق تمہارے مالوں میں رکھا ہوا ہے۔حق ادا کرو۔والدین کے ساتھ شفقت اور رحمت کے سلوک کی تو بہت ہی تاکید فرمائی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ہمسایوں سے حسن سلوک کے ضمن میں بیان کر چکی ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (النساء: 37) گویا اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی واحدانیت کے اقرار کے ساتھ جس چیز کا حکم فرمایا ہے وہ والدین کی خدمت اور والدین سے نیک سلوک کرنا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِي إِسْرَاءِ يُلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّذِى الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ - سوره البقرة آيت 84 پھر فرماتا ہے: