خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 264 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 264

264 گھوڑے نے گر کر جان دے دی۔اس شخص نے کہا کہ جن کا مال دینا تھا ان کو تلاش کرتے اور مال سپرد کرتے دیر ہوگئی اس لئے باوجود اتنا تیز آنے کے مجھے کچھ دیر ہوگئی۔بہر حال میں حاضر ہوں۔اس کے وعدہ کی سچائی کا مقتول کے لواحقین پر اتنا عمدہ اثر ہوا کہ انہوں نے کہا ہم خون بہا لیتے ہیں ایسے نیک آدمی کی جان نہیں لیں گے یہ کس کی قوت قدسیہ کا اثر تھا۔کہ عرب کے وحشی اور آزا دلوگوں کو ایسا ایماندار بنا دیا اور وہ یتامی کا ایسا خیال رکھنے لگ گئے کہ قتل کا حکم ہو چکا ہے۔موت سامنے کھڑی ہے مگر مرنے والے کو اگر خیال ہے تو یہ کہ میرے گھر میں جو یتامیٰ کا مال پڑا ہے وہ ان کو مل جائے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ ﷺ کی شان میں کیا خوب فرمایا ہے۔آں ترجمھا کہ خلق ازوے بدید کس نہ دیده در جہاں از مادری ناتواناں را جاناں ❝ برحمت دستگیر را بشفقت غم خورے (دیباچہ براہین احمدیہ حصہ اوّل ص : 18 ) (ترجمہ) جو رحمت اور مہربانی مخلوقات نے اس سردار یعنی آنحضرت ﷺ سے دیکھی وہ کسی نے اس جہاں میں اپنی ماں سے بھی نہیں دیکھی۔وہ نا توانوں کا رحمت کے ساتھ ہاتھ پکڑنے والا اور خستہ دلوں کی شفقت سے غمخواری کرنے والا ہے۔در مکنون صفحہ 6 ہمسایوں کے لئے رحمت:۔ہمسایوں سے حسن سلوک کی آپ ﷺ بہت نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”جبرئیل بار بار مجھے ہمسایوں سے نیک سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال آتا ہے کہ ہمسایہ کو شاید وارث ہی قرار دے دیا جائے گا۔بخاری و مسلم کی سورہ نساء میں اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمُ ﴿سورة النساء: 37