خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 263
263 نماز روزہ اور دوسری عبادات کا کوئی فائدہ نہیں۔ان آیات کی تغییر فرماتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں:۔یتیم کی طرف توجہ نہ کرنا قوم کو تنزل کی طرف لے جاتا ہے قوم افراد کے ایثار اور قربانی سے بنتی ہے اور افراد کے پیچھے رہ جانے والی چیز اولاد ہوتی ہے۔انسان قوم کی خاطر مرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔مگر جب وہ دیکھتا ہے کہ میری اولاد پیچھے رہ جائے گی ان کی پرورش کوئی نہیں کرے گا اور وہ یونہی ضائع ہو جائے گی تو وہ قربانی کرنے سے رک جاتا ہے اگر صرف اس کی جان کا سوال ہوتا تو وہ پر واہ بھی نہیں کرتا مگر چونکہ اولاد کا سوال اس کے سامنے آجاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ ان کی پرورش کون کرے گا تو وہ قربانی سے رک جاتا ہے۔پس اگر یتیم کی طرف خاص توجہ کی جائے تو اس سے قوم کے اندر ایثار کا مادہ بڑھ جاتا ہے حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کی قربانی کا معیار اس کے یتامی کی خبر گیری کے مطابق ہوتا ہے۔جتنا یتامی کا خیال کسی قوم میں ہوگا اتنا ہی زیادہ ایثار کا مادہ اس کے افراد میں پایا جائے گا۔رسول کریم ﷺ کے زمانے میں یتامیٰ کی خبر گیری کی طرف خاص توجہ دی جاتی تھی۔مشرکین مکہ مارے جاتے تھے تو ان کے یتیم بچوں کی کوئی دیکھ بھال نہ کرتا تھا مگر مدینہ کے لوگ اپنے یتامیٰ کو سر پر اٹھا لیتے تھے یہی وجہ تھی کہ مدینہ کے لوگ ایثار و قربانی سے ڈرتے نہیں تھے۔انہیں یہ فکر نہیں تھا کہ اگر ہم مارے گئے تو ہمارے بچوں کی نگہداشت کون کرے گا۔“ ( تفسیر کبیر جلد دہم ص: 220,219) تاریخ اسلام میں ایک شخص کا واقعہ آتا ہے کہ اس سے کوئی شخص قتل ہو گیا اور اس کی سزا میں اس کے متعلق پھانسی کا فیصلہ کیا گیا۔اس پر وہ شخص کہنے لگا کہ میرے گھر میں یتیموں کا کچھ مال میرے پاس امانت ہے ان کو دے دوں اور پھر حاضر ہو جاؤں۔قاضی نے ضمانت چاہی اس شخص نے سارے مجمع پر نظر ڈالی اور اس کی نگاہ حضرت ابو ذرغفاری پر آ کر ٹھہر گئی اور اس نے کہا یہ میری ضمانت دیں گے۔آپ نے منظور کر لیا۔وہ شخص چلا گیا اس کا وعدہ سورج ڈھلنے تک آنے کا تھا لوگ انتظار کرتے رہے وقت ہو گیا مگر وہ شخص نہ پہنچا۔مسلمانوں میں بڑی گھبراہٹ پیدا ہو گئی کہ ایک شخص کے عوض حضرت ابوذرغفاری پر مصیبت آئے گی۔کہ اتنے میں افق پر سے گردو غبار اڑتا ہوا نظر آیا۔تھوڑی دیر کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہی شخص نہایت تیز رفتاری سے گھوڑا دوڑاتا آ رہا ہے۔اتنی برق رفتاری سے وہ آ رہا تھا کہ جب وہ پہنچا تو اس کے