خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 262
262 یہ بھی معلوم رہے کہ طعام کہتے ہی پسندیدہ طعام کو ہیں۔سڑا ہوا باسی طعام نہیں کہلاتا۔الغرض اس رکابی میں سے جس میں ابھی تازہ کھانا لذیذ اور پسندیدہ رکھا ہوا ہے۔کھانا شروع نہیں کیا۔فقیر کی صدا پر نکال دے تو یہ تو نیکی ہے۔ملفوظات جلد 1 صفحہ 47 نیا ایڈیشن کے تقیموں کے لئے رحمت :۔یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی بے انتہاء تاکید فرمائی۔یتیموں کے متعلق دنیا کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی اطلاع دى فَلَمَّا الْيَتِيمَ فَلا تَقْهَرُ (سورة الضحى (10) یتیموں کی پرورش اس طرح کرو کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم لوگوں کے صدقوں پر پل رہے ہیں۔جس سے ان کی ہمتیں مر جائیں۔بلکہ ان کو اپنے عزیزوں کی طرح پالو جس سے ان کی ہمتیں بلند ہوں۔اسی طرح آپ ﷺ فرماتے ہیں قَالَ رَسُولُ اللهِ كَافِلُ الْيَتِهُم لَهُ أَوْلِغَيْرِهِ أَنَّا وَهُوَ كَهَا تَيْنِ في الجنة (مسلم كتاب الزهد والرقاق) میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں ساتھ ساتھ ہوں گے۔آپ نے دنیا کو تعلیم دی کہ حفاظت یتامیٰ کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تعدد ازدواج کی بھی اجازت دی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ خِفْتُمُ اَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمُ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَعَ۔فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (النساء: 4) چونکہ اسلام میں جنگیں ہوتی تھیں۔جنگوں کے نتیجہ میں کثرت سے جنگ میں مرد مارے جاتے ہیں اور بچے یتیم رہ جاتے ہیں یتامیٰ کی جس قوم میں کثرت ہو لازمی بات ہے کہ اس قوم میں بیوگان بھی زیادہ ہوں گی۔یتامیٰ کی حفاظت کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرو اور اس طرح اللہ کے اس حکم پر عمل کرو وَانْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمُ بیوگان کی شادیاں ضرور کرواؤ بیوگان کی شادی پر صرف اسلام ہی ایک مذہب ہے جس نے زور دیا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمارا معاشرہ پاک اور صاف رہے دوسرے یتامیٰ کی نگہبانی ہو سکے اور وہ با قاعدہ کفالت میں پروان چڑھ سکیں۔یتامی کی خبر گیری کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے اَراَیتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُ الْيَتِيمَ وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينَ۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (الماعون : 2 تا 5 ) کہ اگر کوئی شخص قیموں کی خبر گیری نہیں کرتا۔مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ایسا شخص اگر نمازیں بھی پڑھتا ہے تو اس کی