خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 259 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 259

259 طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور مال اور عزت کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی جان اور کسی کے مال اور کسی کی عزت پر حملہ کرنا نا جائز ہے۔یہ مختصر سا خطبہ بتاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو بنی نوع انسان کی بہبودی کا کتنا خیال تھا۔آپ ﷺ تمام بنی نوع انسان کے لئے کس طرح رحمت تھے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ غلاموں کے لئے رحمت :۔اس زمانے میں غلاموں پر بے حد ظلم کئے جاتے تھے۔جب آپ ﷺ کی شادی حضرت خدیجہ سے ہوئی تو آپ ﷺ نے ان کے سب غلاموں کو آزاد کر دیا۔انہیں میں سے ایک غلام زید بھی تھے جنہوں نے آپ ﷺ سے الگ ہونا پسند نہ کیا۔آپ ﷺ نے ان کی اپنی اولاد کی طرح پرورش کی۔سوسائٹی میں ان کو اتنی عزت دی کہ اپنی پھوپھی زاد بہن کی شادی ان سے کر دی اور دنیا کو اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تعلیم دی کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمُ (الحجرات : 14) غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی آپ ﷺ ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں اس کے ہر عضو پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا۔اسی طرح آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ غلام سے اتنا ہی کام لو جتنا وہ کر سکتا ہے اور جب کوئی کام لو تو اس کے ساتھ مل کر کام میں اس کا ہاتھ بٹاؤ۔آپ ﷺ کی ان نصائح کا یہ نتیجہ ہوا کہ عملاً مسلمانوں میں غلامی ختم ہو گئی اور خدا اور اس کے رسول کی خاطر لوگوں نے غلاموں کو آزاد کر دیا۔ان کی آسائش کا خیال رکھنے لگے اور آزاد کر کے اپنے بھائیوں کا سا ان سے سلوک کرنے لگ گئے۔غلاموں کا اس درجہ خیال ہمارے آقا سرور دو جہاں ﷺ کو تھا کہ حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ آخری الفاظ جو آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے وفات کے وقت سنے جاسکے وہ یہ تھے الصلوة وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم سنن ابن ماجه کتاب ماجاء في الجنائز) اے مسلمانو! نماز اور غلاموں کے متعلق میری تعلیم نہ بھولنا اللہ اللہ کتنا درد تھا غلاموں کا آپ آپ ﷺ کا وجود غلاموں کے لئے سراپا رحمت و شفقت تھا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ حضرت بلال بھی ایک حبشی غلام تھے اسلام لانے کی وجہ سے انہوں نے بے انتہا سختیاں اٹھائیں اور مصیبتیں برداشت کیں۔جب مکہ فتح ہوا تو آنحضرت ﷺ نے ابورویکہ جو حضرت بلال کے منہ بولے بھائی تھے کے ہاتھ میں ایک جھنڈا دے دیا اور اعلان کروایا کہ یہ بلال کا جھنڈا ہے جو اس کے نیچے