خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 258
258 تھے اس لئے تعلیم بھی رحمت، امن اور سلامتی کی تعلیم ہے چنانچہ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ انسان پر دو طرح کے حقوق واجب ہیں ایک خدا تعالیٰ کے اور ایک خدا کے بندوں کے انسان صحیح معنوں میں انسان اسی وقت کہلا سکتا ہے جب کہ وہ خدائے تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ خدا کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرے رحمتہ للعالمین نے نے دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی بہت تاکید فرمائی۔آپ نے فرمایا: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ - بخاری کتاب الایمان حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اگر کوئی شخص کسی کو اپنے ہاتھ سے دکھ پہنچاتا ہے یا اس کے متعلق ایسی باتیں کرتا ہے جو اس کی دل آزاری کا باعث ہوتی ہیں وہ حقیقی مسلمان نہیں۔اگر تمام مسلمان آپ ﷺ کی اس نصیحت پر عمل کرنے لگ جائیں تو ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن جائے۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اسی پر عمل کر کے دنیا کو دکھا دیا تھا۔لیکن افسوس کہ آج کل کے بہت سے لوگ باوجود اسلام جیسی نعمت میسر آنے کے اس پر عمل نہیں کرتے۔عورتوں میں تو خاص طور پر چغل خوری کی عادت کثرت سے پائی جاتی ہے اور اپنی زبان کے ذریعہ وہ دوسروں کی تکلیف کا باعث بنتی ہیں ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا ہے کسی نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ جو بُرائی کسی میں پائی جاتی ہو۔اگر وہ بیان کی جائے تو کیا یہ بھی منع ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہی تو غیبت ہے ورنہ اگر وہ بات نہ پائی جائے اور کوئی محض الزام لگائے تو اس کو بہتان کہیں گے۔(مسلم کتاب البر وصلہ ) اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی تعلیم دی کہ افراد قوم کے عیوب پر بر وقت نکتہ چینی کرنی ٹھیک نہیں۔اسی طرح بُرائی اور بدی کرنے پر جو ایک فطرتی جھجک ہوتی ہے وہ جاتی رہتی ہے۔اصلاح کا طریق ناصحانہ ہونا چاہئے محبت اور شفقت کے ساتھ سمجھانا چاہئے۔آپ ﷺ فرماتے تھے مَنْ قَالَ هَلَكَ النَّاسَ فَهُوَ أَهْلَكَهُمُ (مسلم کتاب البر وصلة) جوشخص يه کہتا پھرتا ہے کہ قوم تباہ ہوگئی۔فلاں ایسا فلاں ایسا اس میں یہ بُرائی اس میں یہ نقص۔اگر اس کی اشاعت بُرائی سے قوم میں بدی پھیل گئی تو اس کا عذاب اس پر بھی نازل ہوگا۔کیونکہ اس نے بُرائی کی اشاعت کی۔اسی طرح حجتہ الوداع کے موقع پر جو آپ ﷺ نے آخری خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کو وصیت فرمائی کہ تمہاری جانوں تمہارے مالوں اور تمہاری عزتوں کو خدائے تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے یہ دن مقدس ہے اسی