خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 257 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 257

257 جنگ اُحد میں آنحضرت ﷺ کا سامنے کا دانت شہید ہو گیا آپ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔آپ کے ہوش میں آنے پر صحابہ نے عرض کی "یا رسول اللہ آپ ﷺ بددعا کیوں نہیں کرتے۔نے فرمایا میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں۔اور دعا فرمائی اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (درمنثور جلد 2 صفحه (298) کہ اے میرے پروردگار تو میری قوم کو ہدایت بخش دے یہ جو کچھ کر رہے ہیں جہالت اور نا مجھی کی وجہ سے کر رہے ہیں۔جب آپ ﷺ تبلیغ حق کی خاطر طائف تشریف لے گئے وہاں کے لوگوں نے آپ ﷺ پر پتھر پھینکے اور کئی میل تک پھینکتے چلے گئے۔آپ ﷺ فرماتے تھے کہ مجھے کچھ ہوش نہیں تھا کہ کدھر جارہا ہوں۔سر سے پیر تک لہولہان تھے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اگر چاہو تو ابھی عذاب نازل کر دیا جائے۔آپ نے کہا نہیں مجھے امید ہے کہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہوں گے۔“ حضرت خدیجہ جو آپ ﷺ کی محرم راز تھیں۔ان کی گواہی آپ ﷺ کی بنی نوع انسان سے ہمدردی کا بین ثبوت ہے۔جب پہلی بار آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو عظیم الشان ذمہ داری کے احساس سے آپ ﷺ کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی گھر آئے۔حضرت خدیجہ کو واقعہ سنایا۔سنتے ہی حضرت خدیجہ بے اختیار کہ انھیں كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ“ (بخاری کتاب بدء الوحى) یعنی خدا کی قسم خدائے تعالیٰ آپ ﷺ کو بھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ ﷺ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتے ہیں۔غرباء اور مساکین کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ عمدہ کام کرتے ہیں جن پر عمل کرنا اس زمانہ میں لوگ بھول چکے ہیں۔آپ ﷺ ان کو سر انجام دیتے ہیں مہمانوں کا خیال رکھتے ہیں لوگوں کی مصیبتوں میں ان کے مددگار ہیں۔بخاری کتاب بدء الوحی حضرت خدیجہ کے یہ الفاظ تاریخ اسلام میں سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل ہیں آپ نے ایک فقرہ میں بتا دیا کہ آنحضرت یہ بنی نوع انسان کے لئے ایک نہایت ہی شفیق اور محبت کرنے والا وجود تھے۔ان کے دل میں تمام مخلوق خدا کا درد تھا۔وہ خود تمام نیکیوں پر حامل تھے اور اپنے، غیر، امیر، غریب سب کے معین و مددگار تھے۔اور یہی تعلیم آپ ﷺ نے ساری دنیا کو دی۔آپ ﷺ چونکہ رحمتہ للعالمین