خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 256 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 256

256 کیا گیا تھا۔آپ ﷺ کو زہر دینے کی کوشش کی گئی۔آپ ﷺ پر حملے کئے گئے۔آپ ﷺ کے راستوں میں کانٹے بچھائے گئے۔آپ ﷺ کے جسم پر پھر پھینک پھینک کر آپ ﷺ کا خون بہایا گیا۔آپ ﷺ کی فاتحانہ شان کو دیکھ کر جبکہ دس ہزار قدوسیوں کا لشکر آپ ﷺ کے ساتھ تھا وہی روسائے قریش دم بخود تھے اور گھبرا رہے تھے کہ دیکھیں آج کیا سلوک ہم سے ہوتا ہے۔آپ ﷺ ران سے پوچھتے ہیں بتاؤ اب تم سے کیا سلوک کیا جائے۔وہ کہتے ہیں آپ شریف ہیں۔آپ ﷺ کریم ہیں ہم وہی سلوک چاہتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔آپ ﷺ فرماتے ہیں۔لَا تَشْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف: 93) جاؤ تم آزاد ہو۔کوئی سزا نہیں ملے گی۔کیا اس سے بڑھ کر رحم و کرم کی کوئی اور مثال دنیا پیش کر سکتی ہے؟ وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ ﷺ کی اس شان عفو اور رحم و کرم کا ذکر فرماتے ہیں۔حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے مکہ والوں اور دوسرے لوگوں پر جنگلی فتح پا کر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر اُن کا گناہ بخش دیا اور صرف انہی چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا۔اور بجز ان از لی ملعونوں کے ہر یک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح پا کر سب کو لا تقرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم کہا اور اسے عفو تقصیر کی وجہ سے کہ جو مخالفوں کی نظر میں ایک امر محال معلوم ہوتا تھا اور اپنی شرارتوں پر نظر کرنے سے وہ اپنے تئیں اپنے مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر مقتول خیال کرتے تھے۔ہزاروں انسانوں نے ایک ساعت میں دین اسلام قبول کر لیا اور حقانی صبر آنحضرت ﷺ کا جو ایک زمانہ دراز تک آنجناب نے ان کی سخت سخت ایذاؤں پر کیا تھا۔آفتاب کی طرح ان کے سامنے روشن ہو گیا اور چونکہ فطرتا یہ بات انسان کی عادت میں داخل ہے کہ اسی شخص کے صبر کی عظمت اور بزرگی انسان پر کامل طور پر روشن ہوتی ہے کہ جو بعد زمانہ آزارکشی کے اپنے آزار دہندہ پر قدرت انتقام پا کر اس کے گناہ بخش دے۔اس وجہ سے مسیح کے اخلاق کہ جو صبر اور حلم اور برداشت کے متعلق تھے وہ بخوبی ثابت نہ ہوئے اور یہ امرا چھی طرح نہ کھلا کہ مسیح کا صبر اور حلم اختیاری تھا یا اضطراری کیونکہ مسیح نے اقتدار اور طاقت کا زمانہ نہیں پایا۔تا دیکھا جاتا کہ اس نے اپنے موذیوں کے گناہ کو عفو کیا یا انتقام لیا بر خلاف اخلاق آنحضرت ے کہ وہ صدہا مواقع میں اچھی طرح گھل گئے۔براہین احمدیہ صفحہ 287 تا288 حاشیہ نمبر 11