خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 9 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 9

696 عربی صحافت کی تاریخ دنیا میں باضابطہ طور پر صحافت کی بنیاد رکھنے والے چینی سمجھے جاتے ہیں۔جنہوں نے 11 9 قبل مسیح میں ایک اخبار جاری کیا۔یہ اخبار سر کاری احکام اور خبروں پر مشتمل شائع ہوا کرتا تھا۔رومیوں نے جولیس سینرر کے عہد میں میدان صحافت میں قدم رکھا۔اس زمانہ میں ان کا ایک روزانہ اخبار جس کا نام ڈیونا تھا۔شائع ہوا کرتا تھا۔جس میں عموماً گورنمنٹ کی طرف سے ضروری احکام اور خبریں شائع کی جایا کرتی تھیں یہ اخبار 491 قبل مسیح میں جاری ہوا تھا۔جہاں تک موجودہ صحافت کا تعلق ہے اس کی بنیاد پندرھویں صدی کے نصف میں چھاپہ خانہ کی ایجاد کے بعد جرمنی میں پڑی۔انگریزوں نے 1622ء میں میدان صحافت میں قدم رکھا۔اور ان کے بعد فرانسیسیوں نے۔باقی تمام اقوام نے اس کے بعد۔عربی صحافت کی ابتدا سب سے پہلے مصر میں ہوئی۔عربی صحافت کی تاریخ کو ہم چار دوروں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔۲۔محمد علی پاشا کے زمانہ میں عربی صحافت کی ابتداء۔محمد علی پاشا اور اسمعیل پاشا کے زمانوں میں عربی صحافت کی ترقی۔۔اسماعیل پاشا کے عہد حکومت سے لے کر انگریزی اقتدار تک کا زمانہ۔۔انگریزی اقتدار کے بعد کا زمانہ۔مصر میں عربی صحافت کی ابتدا فرانسیسیوں کے اثر کی وجہ سے ہوئی جن کا زمانہ 6 179ء سے 1801ء عیسوی تک رہا۔اس زمانہ میں دو فرانسیسی اخبار جاری ہوئے۔لیکن دونوں اخبار فرانسیسیوں کے مصر چھوڑتے ہی بند ہو گئے۔پہلا عربی اخبار جومحمد علی پاشا نے جاری کیا الوقاية المصرية تھا یہ اخبار 1828ء میں نکلنا شروع ہوا۔پہلے صرف ترکی زبان میں شائع ہونا شروع ہوا۔بعد میں ترکی اور عربی دونوں زبانوں میں۔بعد ازاں صرف عربی میں۔یہ اخبار ہفتہ میں تین بار شائع ہوا کرتا تھا۔پہلی جنگ عظیم شروع ہونے تک یہ اخبار جاری رہا۔دوسرا اخبار 1837ء میں فرانسیسی حکومت نے المبشر نامی الجزائر سے جاری کیا۔یہ اخبار فرانسیسی اور عربی دونوں زبانوں میں شائع ہوا کرتا تھا۔یہ پندرہ روزہ اخبار تھا۔