خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 240 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 240

240 بے دست و پا جو عرب میں انتہائی حقیر اور ذلیل سمجھی جاتی تھی۔غلامی کا طوق جن کی گردنوں میں تھا۔رسول کریم ﷺ نے اس طبقہ پر انتہائی شفقت فرمائی اور ان سے حسن سلوک کی بار بار تا کید فرمائی۔آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے غلام تمہارے بھائی ہیں تمہیں چاہئے جو خود کھاؤ وہ انہیں بھی کھلاؤ۔غلاموں سے وہ کام نہ لو۔جو ان پر گراں گزرے۔کوئی سخت کام انہیں دو تو خود بھی ان کی مدد کرو۔رسول کریم غلاموں کو معمولی تکلیف میں دیکھ کر بے قرار ہو جاتے تھے کوئی بیمار پڑتا تو اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے۔اسے تسکین دیتے اس کی پیشانی پر اپنا دست مبارک رکھتے۔غرض آپ عالمہ تھے۔اپنے عزیزوں کے لئے ، آپ یہ مجسم شفقت تھے بیواؤں اور یتیموں کے لئے آپ عالم شفقت تھے غلاموں کے لئے آپ تو مجسم شفقت تھے دوستوں کے لئے آپ ﷺ مجسم شفقت تھے دشمنوں کے لئے آپ ﷺ مجسم شفقت تھے۔اپنوں کے لئے آپ ﷺ مجسم شفقت تھے۔غیروں کے لئے آپ یہ جسم شفقت تھے۔تمام بنی نوع انسان کے لئے بھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے متعلق ارشاد فرمایا وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (انبياء: 108 ) کہ اے رسول ہم نے تجھ کو ساری دنیا کے لئے مجسم رحمت بنا کر بھیجا ہے۔آپ ﷺ نے جو ارشادات فرمائے جو نصائح کیں اپنے عمل سے اسے چار چاند لگا دیئے اور ثابت کر کے دکھا دیا کہ واقعی آپ ﷺ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ رب العالمین کی خاطر تھا ہاں وہ رب العالمین جس نے اپنی صفت ربوبیت کے ثبوت میں محمد رسول اللہ ﷺ کو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ ﷺ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے کامل مظہر تھے اور اسی کیفیت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان اشعار میں بیان فرماتے ہیں۔شان احمد را که داند جز خداوند کریم آنچنان از خود جدا شد کز میاں افتاد میم زاں نمط شد محو دلبر کز کمال اتحاد پیکر اوشد سراسر صورت رب رحیم ہوئے محبوب حقیقی میدید زآں روئے پاک ذات حقانی صفاتش مظہر ذات قدیم (توضیح مرام م:23) ترجمہ:۔(۱) احمد ﷺ کی شان کو خدا وند تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔