خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 238
238 وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ۔(بخاری کتاب بدء الوحى) یعنی اللہ کی قسم خدا تعالیٰ آپ ﷺ کو کبھی ذلیل اور نا کام نہیں کرے گا۔آپ ﷺ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں۔بے چاروں کے چارہ ساز ہیں۔ان کے بوجھ اٹھاتے ہیں۔وہ اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے تھے آپ ﷺ کے وجود با برکت سے دوبارہ دنیا میں قائم ہورہے ہیں۔آپ مہمان نواز ہیں۔مصیبت زدوں کی حمایت اور مدد کرتے ہیں۔کیا ایسا شخص اپنے مقصد اور مشن میں نا کام ہو سکتا ہے۔چند فقروں میں حضرت خدیجہ نے آپ ﷺ کی زندگی کا نقشہ کھینچ دیا جو گویا مَحْيَايَ وَ مَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الاعراف: 163) کی عملی تفسیر تھا کہ آپ ﷺ کی تو زندگی گزار رہی ہے غریبوں مظلوموں، بے کسوں اور لاوارثوں کے حقوق کی حفاظت میں اور تمام بنی نوع انسان کی بھلائی میں صبر و تحمل :۔متحمل آپ ﷺے میں اس قدر تھا کہ اس پل بھی کہ آپ ﷺ کو خدا تعالیٰ نے بادشاہت عطا فرما دی ہر ایک کی بات سنتے۔اگر وہ بختی بھی کرتا تو آپ ﷺ خاموش ہو جاتے۔مسلمان کو یا رسول اللہ کہہ کر مخاطب ہوا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک یہودی مدینہ میں آیا اور اس نے سے بحث شروع کر دی۔بحث کے دوران وہ بار باراے محمد۔اے محمد کہہ کر مخاطب ہوا۔رسول اللہ ﷺ اس کی باتوں کا نہایت بشاشت اور تحمل سے جواب دیتے رہے۔ایک صحابی سے برداشت نہ ہو سکا۔اس نے یہودی سے کہا خبر دار آپ ﷺ کا نام لے کر بات نہ کرو۔اگر رسول اللہ نہیں کہہ سکتے تو ابوالقاسم ہی کہو جو آپ ﷺ کی کنیت سے۔یہودی نے کہا میں تو وہی نام لوں گا جو آپ ﷺ کے والدین نے آپ ﷺ کا رکھا۔رسول اللہ فدائی ابی وامی و روحی مسکرائے اور صحابہ سے کہا۔ٹھیک کہتا ہے۔میرا نام میرے والدین نے محمد ہی رکھا ہے اسے لینے دو غصہ نہ کرو۔آپ ﷺ جب تشریف لے جاتے تو لوگ آپ ﷺ کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی ضرورتیں بیان کرنی شروع کر دیتے جب تک وہ اپنی بات ختم نہ کر لیتے آپ ﷺ کھڑے رہتے اور حاجت مندوں کی ضرورتوں کو پورا فرماتے۔مگر ضرورتیں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ عزت نفس کا سبق بھی دیتے۔اور سوال سے بچنے کی تلقین فرماتے۔