خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 230 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 230

230 مرکز محض اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔جب انسان اس عظیم الشان قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔تب اس میں اسلام کی حقیقی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اور اسی کیفیت کو قرآن مجید نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: 164) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ارشاد فرمودہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی تفسیر میں اپنی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی میں فرماتے ہیں۔وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی ﷺ پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا۔اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارہ کرنا اور اپنے کام میں ست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا۔ایسے طور پر دکھلا دیئے۔جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس طرح استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا۔اور پھر جب دوسرا زمانہ آیا یعنی فتح اور اقتدار اور ثروت کا زمانہ تو اس زمانہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے اعلیٰ اخلاق عفو اور سخاوت اور شجاعت کے ایسے کمال کے ساتھ صادر ہوئے جو ایک گروہ کثیر کفار کا ان اخلاق کو دیکھ کر ایمان لایا۔دکھ دینے والوں کو بخشا اور شہر سے نکالنے والوں کو امن دیا۔ان کے محتاجوں کو مال سے مالا مال کر دیا اور قابو پا کر اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بخش دیا۔چنانچہ بہت سے لوگوں نے آپ کے اخلاق دیکھ کر گواہی دی کہ جب تک کوئی خدا کی طرف سے اور حقیقتا راستباز نہ ہو۔یہ اخلاق ہرگز نہیں دکھا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کے پرانے کیسے یک لخت دور ہو گئے۔آپ کا بڑا بھاری خلق جس کو آپ نے ثابت کر کے دکھلا دیا وہ خلق تھا۔جو قرآن مجید میں ذکر فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ قُلْ إِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَالِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِين (الانعام: 164۔163) یعنی ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کے لئے ہے۔یعنی اس کا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے۔تا میرے مرنے سے ان کو زندگی حاصل ہو۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے واقعی ہمدردی اور محنت اٹھانے سے بنی نوع کی رہائی کیلئے جان کو وقف کر دیا تھا اور