خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 229 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 229

229 تمام فرمانبرداروں میں اول درجہ کا بنوں۔آپ کے واقعات زندگی بتاتے ہیں کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی محبت اور انسان کی ہمدردی میں اپنی جان اور آرام، آسائش کی کوئی پرواہ نہ کی۔اور اللہ تعالیٰ کی توحید قائم کرنے میں اور لوگوں کو دعوت الی الحق دینے میں آپ نے صبر و استقامت اور قربانی اور ایثار کا جونمونہ پیش کیا۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے عہد یعنی اِنَّ صَلوتِی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام: 163) کو واقعی پورا کر دکھایا۔جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور اپنی صفات میں بے مثل ہے اسی طرح آپ اپنے عہد کو پورا کرنے اور محبوب حقیقی سے عشق اور محبت رکھنے میں بے مثل تھے۔یہ آیت آنحضرت ﷺ کی سیرت کا ایک مکمل نقشہ ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔انسانی کمال کا یہ ضابطہ عمل اور انسانی زندگی کا یہ نصب العین خود انسان کا بنایا ہوا نہیں۔بلکہ خود رب العالمین کا تجویز فرمودہ ہے۔جیسا کہ وَبِذَالِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: (164)کےالفاظ سے ظاہر ہے۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کو تمام دنیا کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا۔جیسا کہ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا(الاحزاب : 22) یعنی اے لوگو! یہ رسول پیروی کرنے کے لئے بہترین نمونہ ہے اس شخص کے لئے جو خدا تعالیٰ کی رحمت اور آخرت میں کامیابی چاہتا ہو اور اللہ کو بہت یادرکھتا ہو دوسری طرف إِنَّ صَلوتِی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (الانعام: 163) میں آپ کی زندگی کا دستور العمل اور مرکزی نقطہ بیان فرماتا ہے۔انسانی زندگی کا مقصد دونوں آیات پر یکجا طور پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد مقام محمدیت کی پیروی اور رسول کریم ﷺ کی کامل اطاعت اور کامل اتباع کے ساتھ اور آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔اسی طرح اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران (32) کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کسی انسان کو اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا۔جب تک وہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت میں ایسا سر شار نہ ہو جائے کہ ہر قول اور فعل میں آپ کا کامل فرمانبردار ہو۔اور یہ دولت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کی زندگی میں یہ حالت پیدانہ ہو جائے کہ وہ اپنی تمام خواہشوں اور جذبات پر اپنے ہاتھ سے ایک موت وارد کرے اور اس کے دائرہ عمل کا