خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 228
228 سرور کائنات حضرت محمد مصطفی عہ کے عدیم المثال فضائل و محامد 18 مارچ کو لاہور میں خواتین کے جلسہ سیرۃ النبی میں حضرت سیدہ ام متین صاحبہ سلمھا اللہ تعالیٰ کی جامع اور مبسوط تقریر رسول کریم ﷺ کی ایک نمایاں فضیلت إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔(الاحزاب: 57) قُلْ إِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ لَاشَرِيكَ لَهُ وَبِذَالِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: 163 164) رسول مقبول ﷺ کا وجود تمام بنی نوع انسان کے لئے باعث رحمت اور آپ کی بعثت تمام دنیا کی قوموں کے لئے نجات کا باعث تھی۔آپ کی تمام انبیاء پر ایک فضیلت اور ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے وہ صرف اپنی قوموں کی راہ نمائی کے لئے آئے۔لیکن ہمارے آقا نبی کریم تمام اقوام عالم کو ایک مرکز پر جمع کرنے کے لئے مبعوث ہوئے۔آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو ایک مکمل شریعت عطا فرمائی جو قیامت تک تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے کافی ہے۔چنانچہ آپ ایک مکمل ترین شریعت کے حامل تھے اور آپ کا دامن فیض قیامت تک ممتد رہنا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام خاتم النبین رکھا۔جو آپ کی اعلیٰ شان اور آپ کے بلند روحانی مقام کا مظہر ہے۔سیرت النبی ﷺ کا مکمل نقشہ آپ ہر وصف میں یکتا تھے۔کوئی انسان آپ کے اوصاف پوری طرح بیان نہیں کر سکتا۔خدائے دو جہاں اور واقف اسرار کون و مکاں نے جامع طور پر صرف ایک فقرہ میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کردار بلکہ تمام زندگی کی تفصیل قرآن مجید میں یوں بیان فرما دی ہے کہ قُلْ إِنَّ صَلَوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام: 163) کہ اے محمد رسول اللہ ﷺ تو کہہ دے کہ میری عبادت اور تمام قربانیاں میرا مرنا اور میرا جینا اس تمام خوبیوں والے خدا کے لئے ہے جو تمام مخلوقات کا پرورش کرنے والا ہے۔اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں