خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 226
226 جلسہ سالانہ 1961ء جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے ایمان افروز تقریر کی۔آپ کی تقریر کا موضوع ” حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض اور غایت اسلام کی خدمت اور توحید کا قیام تھا۔آپ کی آواز میں احمدی جماعت کے ہر حساس فرد کی آواز کی بازگشت شامل تھی۔آپ نے ایک ایسے امر کی طرف توجہ دلائی جس سے غفلت مضر ثابت ہورہی ہے۔آپ نے قرآنی دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَالضَّالِينَ۔آمين (الفاتحه : 76) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کے مسلمانوں اور خصوصاً احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ اس مقصد کو پورا کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا نصب العین تھا۔اور ان کی بعثت کی غرض حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے الفاظ میں یہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی بھاری غرض وغایت اسلام کی خدمت اور توحید کا قیام تھی اور اس زمانہ میں حقیقی تو حید کا سب سے زیادہ مقابلہ مسیحیت کے ساتھ ہے جو تو حید کی آڑ میں خطرناک شرک کی تعلیم دیتی ہے اور حضرت مسیح ناصری کو نعوذ باللہ خدا کا بیٹا قرار دے کر حضرت احدیت کے پہلو میں بٹھاتی ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عیسائیت کے خلاف بڑا جوش تھا اور ویسے بھی آپ کے منصب مسیحیت کا بڑا کام حدیثوں میں کسر صلیب ہی بیان ہوا ہے، اس لئے آپ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر بڑا زور دیتے تھے کیونکہ صرف اسی ایک بات کے ثابت ہونے سے ہی عیسائیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔“ یہ عظیم الشان مقصد تھا جس کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تھے اور یہی آج ہر احمدی کا فرض ہونا چاہئے۔آج عالم اسلام پکار پکار کر مسیحیت کے غلبہ کے خلاف احتجاج کر رہا ہے لیکن اس کا اصل تو ڑ اور جواب احمدیت کے پاس ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔مسیح کو مرنے دو کہ اسلام کی زندگی اسی میں ہے۔ملفوظات جلد پنجم صفحہ 548 لیکن کوئی کام کسی ایک فرد کے کہنے سے نہیں ہو جاتا ہمیں اپنے اعمال میں ایسی شان پیدا کرنی چاہئے کہ ہمارا نمونہ دوسروں کے لئے مشعل راہ بن جائے۔اپنے بچوں کو مسیحی سکولوں میں تعلیم دلا کر ہم یہ توقع