خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 216
216 جب آپ پڑھیں گی تو معلوم ہوگا کہ ان کی تلقین سے کئی بہنوں نے اپنی اصلاح کی۔بعض لڑکیوں نے جو پردہ نہیں کرتی تھیں پردہ شروع کر دیا۔اسلام میں کوئی چھوٹا اور بڑا نہیں۔اسلام نے قوموں اور ذاتوں کے فرق کو مٹا دیا ہے۔حقیقت میں وہ بڑا ہے جو علم۔تقویٰ اور عمل میں بڑا ہے۔آپ کو چاہئے کہ اسلامی اخوت کا جذبہ پیدا کریں۔متحد ہو کر احمدیت کی ترقی کے لئے کام کریں۔اگر آپ نیک نمونہ پیش کریں گی تو سب آپ کی پیروی کریں گی اور اگر آپ کا نمونہ اچھا نہیں تو آپ کی کوئی بھی پیروی نہیں کرے گا۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی طرف پوری توجہ دینی چاہئے۔منہ سے خواہ کچھ کہو۔دھواں دھار تقاریر کر واگر عمل اور نمونہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔احمدی عورتوں میں بے پردگی شروع ہوگئی ہے۔حالانکہ پر وہ کاحکم اسلام کا قطعی اور واضح حکم ہے کوشش کریں کہ کوئی احمدی عورت بے پردہ نہ رہے۔مردوں کو مردوں کے ذریعہ سمجھائیں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں پہلے پردہ اتارتی ہیں۔اس کے بعد مذہب میں کمزوری دکھانی شروع کر دیتی ہیں۔اپنی بے پردگی کے عیب کو چھپانے کے لئے اجلاسوں اور جلسوں میں شرکت کرنے سے گریز کرتی ہیں۔بہر حال آپ سب متحد ہو کر تمام کام سرانجام دیں۔آپ میں سے بہت سی دین کی خدمت کر رہی ہیں۔اور کرتی چلی جائیں گی۔مگر قوم کی ترقی ایک مرد سے وابستہ نہیں۔ترقی وہی قوم کرتی ہے جس کے افراد میں اتحاد اور تعاون ہو۔نیز آپ کو اپنی بچیوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔اگر ان کی تربیت مذہبی رنگ میں نہیں ہوئی تو خواہ آپ کتنا ہی کام کرتی چلی جائیں۔قوم کا مستقبل شاندار نہیں ہو سکتا۔آپ بچیوں کی ایسی تربیت کریں کہ ان میں خدمت دین کا شوق پیدا ہو۔اور بڑی ہو کر قوم کی سرگرم رکن بنیں۔اگر بچیاں اسلام کی تعلیم سے نا آشنار ہیں تو دین سے ان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا۔اور ان چندوں کے دینے کا بھی کوئی فائدہ نہیں رہے گا اگر بچیوں کی تربیت اعلیٰ نہیں ہوگی۔سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ بچیوں کو اعلیٰ تربیت دی جائے اور ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اسلام کی خدمت صحیح رنگ میں کر سکیں۔قرون اولیٰ کی عورتیں پڑھی ہوئی نہ تھیں پھر بھی اگر کسی کا خاوند جہاد میں جانے سے گریز کرتا تو وہ کہتی کہ تمہارا اور میرا کوئی تعلق نہیں۔اگر بیٹا ایسا کرتا تو کہتی کہ میں اپنا دودھ معاف نہیں کروں گی۔