خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 213
213 ہجرت کو تیرہ سال ہو گئے اور قادیان ہم سے چُھٹ گیا مگر ہماری جماعت کی بچیوں میں قادیان سے اتنی محبت ہو کہ جب ان کو جانے کا موقعہ ملے قادیان کا ماحول ان کو اجنبی نہ لگے۔تمہارا نصب العین اسلام کی خدمت ہے اور اسلام کی خدمت زبانی دعووں سے نہیں ہوسکتی۔اسلام کی خدمت عملی طور پر دکھاؤ۔اپنے عمل سے ثابت کرو اور اپنے آپ کو سچے مسلمان کا نمونہ بن کر دکھاؤ تا لوگ تمہاری اتباع کریں تمہارے اندر اعلیٰ اخلاق ہوں جو تمہاری شخصیت کو نمایاں کر دیں۔سچائی تمہارا شعار ہو۔ہماری بہنوں کو سچائی پر اس شدت سے قائم ہونا چاہئے کہ ان کی تقلید میں بچیاں خود بخود ہی رنگ اختیار کر لیں۔آپ نے بچیوں کو دیانتداری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آئندہ کی رپورٹوں میں صرف چندہ وغیرہ نہیں دیکھوں گی بلکہ زیادہ توجہ اس بات کی طرف کروں گی کہ آپ نے سچائی اور دیانتداری کا جذبہ ناصرات میں پیدا کرنے کے لئے کہاں تک محنت کی اور اس کا نتیجہ کیا نکلا۔تیسری ضروری چیز محنت ہے۔ناصرات میں ابتداء ہی سے محنت کا شوق پیدا کرنا چاہئے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ناصرات میں نوے فی صدی ایسی ہیں جو محنت سے جی چراتی ہیں۔محنت کرنے والا کبھی نا کام نہیں ہوتا۔جسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں سچی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔تمہارے اندر محنت اور فرض کی ادائیگی اور ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے جس کام کو شروع کرو اس کو انتہا تک پہنچا کر دم لو۔اگر یہ جذبہ ابھی سے پیدا نہ کرو گی تو آئندہ کوئی کام نہ کر سکو گی۔ناصرات الاحمدیہ کا یہی مقصد ہے کہ ان میں قوم کے لئے قربانی۔محنت کی عادت اور احساس ذمہ داری پیدا ہو۔ایک اور چیز کی طرف توجہ دلاتی ہوں اور وہ ہے لڑائی اور جھگڑے کی عادت سے گریز کرنا۔اگر آج بچیاں اس عادت کو چھوڑنے کی کوشش نہ کریں گی تو یہ عادت بڑے ہو کر کوشش کے باوجود نہیں جائے گی۔یہ عادتیں اسی عمر میں دور ہونی چاہئیں۔تا کہ بڑی ہو کر بچیاں اسلام احمدیت اور جماعت کی بہترین اور بے مثال کارکنات بن سکیں۔اور اسلام کو ایسی عورتیں میسر ہوں جن کے بچے اسلام اور احمدیت کی خاطر اپنی گردنیں کٹوانے میں فخر محسوس کریں۔تاریخ تجنه جلد سوم صفحہ 50 تا 54