خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 211
211 ہیں۔عمل اور تنظیم میں بڑھ چڑھ کر ہیں۔اور ان کے اجتماع بہت کامیاب ہوئے ہیں۔اور یہ کہ انہوں نے ہر کام میں بہت ترقی کی ہے۔دوسری لجنات بھی ناصرات الاحمدیہ کی تنظیم قائم کریں گی۔ناصرات الاحمدیہ کا یہ کام نہیں کہ وہ صرف جلسے منعقد کر کے تقریروں میں حصہ لیں۔مضامین سنائیں بلکہ عملی طور پر ان کی تربیت اس طریقہ سے ہونی چاہئے کہ جب وہ لجنات کی ممبر بنیں تو وہ مفید کارکنان ثابت ہوں۔اس لئے ناصرات کی تربیت پندرہ برس تک مکمل ہو جانی چاہئے۔اس غرض سے سال رواں کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ نہ صرف مقابلوں میں اول۔دوم۔سوم آنے والی ناصرات انعام کی مستحق ہوں گی بلکہ بہترین سچ بولنے والی۔بہترین دیانتدار اور بہترین با اخلاق بچیوں کو بھی انعامات دیئے جائیں گے۔تم میں ایسی روح پیدا ہونی چاہئے کہ تمہاری مخالف بھی سمجھ لیں کہ یہ قوم کی ایسی مخلص اور قربانی کرنے والی کارکنات ہیں کہ ان سے جو ٹکر لے گا شکست کھائے گا۔مرکز کی اور باہر کی لجنات کو ناصرات الاحمدیہ کی دینی تربیت اس رنگ میں کرنی چاہئے کہ ان کو دینی علم سے کامل واقفیت ہو۔اسی غرض کے لئے اس سال ناصرات الاحمدیہ کے لئے ایک کتاب لکھی گئی ہے۔جس کا نام راہ ایمان“ ہے۔اور جو سو صفحات پر مشتمل ہے۔یہ اس غرض سے شائع کی گئی ہے تا کہ تمام بچیاں اس کو پڑھ کر دین سے آگاہ ہو سکیں۔یہ کتاب چھوٹی اور بڑی بچیوں دونوں کے لئے ہے۔آئندہ سال اسی موقعہ پر اس کتاب سے ناصرات کا امتحان ہوگا۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ ربوہ کی اور باہر کی ناصرات جو آئی ہوئی ہیں۔اس کتاب کو بھی خرید لیں تاکہ پتہ چل سکے کہ اور کتنی چاہئیں۔اور اس کے مطابق جلسہ سالانہ پر دوسرا ایڈیشن شائع کیا جاسکے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ انعامات ان لڑکیوں کو بھی دیئے جائیں گے جو اخلاق فاضلہ کے لحاظ سے اول۔دوم اور سوم ہوں گی۔چندہ وغیرہ دینا اصل چیز نہیں۔بلکہ تربیت ناصرات الاحمدیہ اصل چیز ہے۔تا کہ ناصرات اسلام کا ایک زندہ نمونہ بن جائیں۔جس طرح اور چیزوں کا مجسمہ ہوتا ہے۔ناصرات الاحمدیہ کو احمدیت کا جیتا جاگتا مجسمہ ہونا چاہئے۔ان کی تربیت شروع ہی سے اس رنگ میں ہونی چاہئے کہ ان کو احساس ہو کہ ہمارا اصل مقصد جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے اسلام اور احمدیت کو پھیلانا ہے۔