خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 210
210 افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ 1960ء لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا چوتھا سالانہ اجتماع 21 22 23 /اکتوبر کو منعقد ہوا اس سال سے ناصرات کا اجتماع بھی لجنہ اماءاللہ کے اجتماع کے ساتھ اپنی تاریخوں میں منعقد کیا گیا۔ورنہ اس سے قبل ناصرات کا اجتماع لجنہ اماءاللہ کے اجتماع سے علیحدہ ہوتا تھا۔تلاوت و نظم کے بعد آپ نے ناصرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس سال ہم لجنہ اماء اللہ کے ساتھ ناصرات الاحمدیہ کا اجتماع بھی منعقد کر سکے ہیں۔ناصرات الاحمدیہ کا اجتماع لجنہ اماءاللہ کے اجتماع کے ساتھ رکھنے کی غرض یہ تھی کہ بچیاں اپنی ماؤں کے ہمراہ شرکت کر سکیں۔چھوٹی بچیوں کا یہاں پر اکیلے آنا مشکل ہے۔اس طرح ماؤں کو ان کے ساتھ آنا پڑتا ہے۔جس سے مشکل پڑتی ہے۔اس لئے پہلی بار ہم تجربہ کے طور پر دونوں اجتماع اکٹھے رکھ رہے ہیں۔خدا تعالیٰ ہمیں اس تجربہ میں کامیاب کرے۔اور آئندہ اس سے بھی بہتر طریقہ سے اجتماع منعقد کرنے کی توفیق دے۔آمین اس وقت تک باہر سے راولپنڈی۔سرگودھا اور سیالکوٹ کی ممبرات تشریف لائی ہیں۔جیسا کہ ان کی ناصرات الاحمدیہ کے جھنڈے نظر آرہے ہیں۔علاوہ ازیں لائل پور۔لاہور اور احمد نگر سے بھی ناصرات الاحمدیہ آئی ہوئی ہیں۔ناصرات الاحمدیہ کی غرض صرف یہی نہیں کہ کبھی کبھی جلسے منعقد کر لیں۔بلکہ مقصود یہ ہے کہ چھوٹی عمر سے یعنی سات سال سے پندرہ سال کی عمر میں ہی وہ ابتدائی دینی علوم میں واقفیت حاصل کریں۔تنظیمات میں حصہ لیں تا کہ جب وہ لجنہ کی ممبر بنیں تو علم اور عمل کے لحاظ سے مکمل ہوں۔اب تک ناصرات الاحمدیہ کی تربیت پر بہت کم توجہ دی گئی تھی۔لیکن اس شعبہ نے زیادہ محنت سے کام کیا ہے۔اور ناصرات الاحمدیہ میں کافی ترقی ہوئی۔بہت سی جگہوں پر ناصرات الاحمدیہ کا ابھی ابھی قیام ہوا ہے ہماری نمائندگان نے بیرونی ناصرات الاحمدیہ میں سے لاہور۔راولپنڈی اور سیالکوٹ کی بہت تعریف کی۔کہ وہ ہر قسم کے کاموں میں حصہ لیتی