خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 201
201 اور لجنہ کی ترقی کی تدابیر سوچیں تو ان کے لئے سعادت دارین حاصل کرنے میں کوئی شعبہ باقی نہ رہ جاتا۔پس شعبہ تربیت کے ماتحت آپ کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ اپنی اصلاح کریں اور اپنی دوسری بہنوں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں۔شعبہ خدمت خلق کے سلسلہ میں آپ کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ چونکہ اکثریت اس جلسہ میں باہر کی عورتوں کی ہے اس لئے نہ صرف آپ اپنے رشتہ داروں اور احمدی بہنوں کی خدمت کریں بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی مخلوق کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں۔آپ خدمت کے وقت مسلمانوں ، عیسائیوں ، ہندوؤں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہ رکھیں۔بلکہ اسلام کے حکم کے مطابق سب بنی نوع انسان کی خدمت کرنا آپ کے لئے ضروری ہے۔ربوہ میں اکثریت غرباء کی ہے اور بہت سی خواتین صرف اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے لئے ربوہ میں مقیم ہیں۔لجنہ اماءاللہ مرکز یہ پوری کوشش کرتی ہے کہ جو غرباء باہر سے بچوں کی دینی تعلیم اور دینی ماحول کے لئے ربوہ میں آباد ہوئے ہیں۔جہاں تک ہو سکے ان کی مدد کی جائے۔خواہ پیسوں کے ذریعہ یا کتب اور فیس کے معاف کرانے کے ذریعہ ہو۔باہر کی لجنہ سے اس شعبہ کے ماتحت جو رپورٹ مرکز میں آتی ہے۔اس میں انفرادی مساعی کا ذکر ہوتا ہے۔حالانکہ اجتماعی کوششوں کا ذکر ہونا چاہئے۔کہ ہماری لجنہ مل کر اتنی رقم اکٹھی کرتی ہے ہر قوم کے افراد جو مدد کے محتاج ہوں ان کی مدد کی جائے تا سب کو معلوم ہو جائے کہ احمدیت میں تعصب نہیں۔۔شعبہ تعلیم کا کام یہ ہے کہ آپ مختلف لجنات میں تعلیم کا انتظام کریں۔اس سے ظاہری تعلیم مراد نہیں کیونکہ اس کے لئے سکول اور کالج ہیں بلکہ اس شعبہ کے ماتحت مرکز سے ایسے کورس امتحان کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب رکھی جاتی ہیں۔لیکن مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امتحان میں سارے پاکستان میں سے صرف ایک سو امتحان دینے والی شامل ہوتی ہیں۔سال میں تین دفعہ امتحان ہوتے ہیں۔اگر آپ کوشش کریں اور ہر بہن جو اردو پڑھنا لکھنا جانتی ہے ان امتحانات میں شامل ہو تو سال بھر میں دینیات کے حصوں کا بہت بڑا فائدہ سب کو پہنچ سکتا ہے۔تعلیم کے ساتھ دوسرا شعبہ تربیت کا ہے اس کا ذکر شعبہ خدمت خلق کے شعبہ کے ساتھ ہو چکا ہے اس شعبہ کے ماتحت جہاں آپ دیگر برائیوں غیبت ، جھوٹ اور عیب جوئی وغیرہ کو دور کریں وہاں بے پردگی کو بھی دور کرنے کی