خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 200
200 کی تقریر رکھیں اور ان کے چشم دید واقعات قلمبند کر لیں اور ان کو یادر کھنے کی کوشش کریں۔اگر اس وقت آپ نے ستی کی اور اس سنہری موقعہ سے فائدہ نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں آپ سے مطالبہ کریں گی کہ آپ نے نیک اور بزرگ لوگوں سے ہمارے لئے کیا حاصل کیا تو یہ طریق اختیار کرنے سے نہ صرف آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات کا علم ہوگا بلکہ آپ اپنی اولادوں کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچ جائیں گی۔اس سلسلہ میں خاص طور پر سکول اور کالج کی ہیڈ بھی مخاطب ہیں کیونکہ کتابوں سے علم سیکھنا اتنا مفید نہیں ہوتا جتنا چشم دید واقعات اور کانوں سے حالات سے ہوتا ہے۔ماؤں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی اولادوں کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ ان کے بچے اس لئے احمدی نہ ہوں کہ ان کے ماں باپ احمدی تھے بلکہ وہ دلائل احمدیت کے خود قائل ہو کر مانیں۔ہماری بزرگ ہستیاں گا ہے گاہے بازخواں ایں قصہ پارینہ را کے مطابق قصہ پارینہ ہی شمار ہونے لگی ہیں۔اس لئے ان کی قدر کریں اور ان سے استفادہ کریں۔اب میں آپ کے سامنے یہ بیان کروں گی کہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کن شعبہ جات کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ہمارا پہلا شعبہ خدمت خلق کا ہے۔خدمت خلق ہر انسان پر واجب ہے۔اس لئے کوئی شرط نہیں کہ آپ سے کہا جائے کہ خدمت خلق کرو تو آپ کریں اور اگر نہ کہا جائے تو نہ کریں۔خدمت خلق کا جذ بہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔توفیق خود بخود انسان کومل جاتی ہے۔راستہ سے کانٹا اٹھا دینے کو بھی اسلام خدمت خلق قرار دیتا ہے لیکن سب سے زیادہ جامع تعلیم جو خدمت خلق کی اسلام نے دی ہے وہ یہ ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھوں اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔پس کوشش کرنی چاہئے کہ آپ کے ہاتھوں اور زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔عورتوں میں غیبت کا مرض اس شدت سے پیدا ہو گیا ہے کہ اگر وہ اس کی بُرائی جانتیں تو وہ کبھی اس بُری عادت کو اختیار نہ کرتیں۔قرآن کریم نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ۔جس طرح تمہیں اس سے کراہت آتی ہے۔اسی طرح غیبت کرنے سے تمہارے دل میں نفرت پیدا ہونی چاہئے۔مرد اس بد عادت سے بڑی حد تک بچے رہتے ہیں خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔لیکن عورتیں اکثر جہاں بھی جمع ہوں اس لعنت کو اپنے اوپر وارد کر لیتی ہیں۔حالانکہ اگر وہ اپنے فارغ اوقات میں اور اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر یہ سوچیں کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن سے اسلام کی اشاعت کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جاسکتی ہے