خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 197
197 خطاب 27 دسمبر جلسہ سالانہ 1957ء آپ نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس دفعہ جلسہ سالانہ میں شریک ہونے کی توفیق دی اس لئے آپ کو بھی چاہیے کہ آپ مرکز کی ہر بات سے کما حقہ فائدہ اٹھائیں۔اور جلسہ کی برکات سے حصہ لیں۔آپ نے فرمایا کے جی سکول اور مسجد ہالینڈ کا چندہ ادا کرنا آپ کا فرض ہے اور تیسری چیز تفسیر صغیر ہے۔اس کی خریداری میں بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔آپ نے فرمایا جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہر سال صنعتی نمائش لگائی جاتی ہے اس دفعہ نمائش اچھی نہیں لگی۔جس کی ذمہ دار آپ خود ہیں۔اجتماع سالانہ پر نمائندگان نے ہال گیلری بنوانے کے لئے چندہ کا وعدہ کیا تھا۔مگر افسوس کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا انسانی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہیے۔خاص کر ہم لوگوں کو جنہیں خدا تعالیٰ نے ایسا مبارک زمانہ عطا فرمایا ہے اور آئندہ آنے والی نسلیں اس زمانہ پر رشک کریں گی۔آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ایسا زمانہ نصیب ہوا ہم لوگوں کو حضرت مسیح موعود کی بیعت کر کے اپنا تن من دھن سلسلہ کے لئے قربان کر دینا چاہئیے۔آپ نے فرمایا ظاہر اور باطن میں تبدیلی ہونی چاہیے ہمارے ایمان اخلاق میں تبدیل ہونے چاہیے۔ہم نے زندہ انسان نہیں بلکہ زندہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے۔اور ہم لوگ ایک زندہ جماعت کے افراد ہیں۔اگر ہم عملی اصلاح نہ کر سکے تو بیعت بے فائدہ ہے۔جماعتی اصلاح عورتوں اور مردوں اور بچوں کی اصلاح کے ساتھ ہی ممکن ہے۔اگر آپ چاہتی ہیں کہ ہماری قوم میں عظیم الشان تغیر پیدا ہو تو آپ کے اپنے بچوں کی اصلاح کے لئے آپ کی اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔بغیر کوشش کے کوئی کام نہیں ہوتا “ آپ کوشش کرتی جائیں۔جتنا اسلام نے نفس کی پاکیزگی پر زور دیا ہے۔جتنا اسلام نے انسانی ہمدردی پر زور دیا ہے۔جتنا اسلام نے غیبت سے بچنے پر زور دیا ہے۔اور کسی مذہب نے زور نہیں دیا۔مسلمانوں میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا ہے کہ اخلاق کوئی چیز نہیں ہم لوگ چندہ دیتے ہیں۔نماز پڑھتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ چوری کرنا جھوٹ بولنا چغلی کرنا ایک معمولی بات ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ چیزیں سب سے بڑی برائیاں ہیں ان برائیوں کو چھوڑ کر ہی ہم